Showing posts with label ایکسپریس اردو. Show all posts
Showing posts with label ایکسپریس اردو. Show all posts

Wednesday, 22 April 2020

کرکٹ آسٹریلیا ملازمین کو سپراسٹورمیں کام دلانے لگا

لاہور: کرکٹ آسٹریلیا نے باہر بٹھائے جانے والے اسٹاف کیلیے متبادل روزگار کی تلاش شروع کردی اور عارضی نوکریوں کیلیے سپرمارکیٹ کمپنی سے رابطہ کرلیا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے کرکٹ سرگرمیاں معطل ہونے پر مالی بحران کا شکار کرکٹ بورڈ نے 80 فیصد ملازمین کو وقتی طور گھر بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، موجودہ پالیسی کے مطابق یہ متاثرین حکومتی امداد پانے والوں کی فہرست میں بھی شامل نہیں ہوسکتے،ان کی ملازمتوں کیلیے کرکٹ آسٹریلیا نے اپنی اسپانسر کمپنی سے رابطہ کرلیا، وہ سپرمارکیٹس کی ایک چین چلاتی اور نئے ورکرز کی ضرورت بھی محسوس کررہی ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹیو کیون رابرٹس نے کہاکہ ہم ناگزیر وجوہات کی بنا پر سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہوئے، ان ملازمین کی مدد کیلیے اپنے اسپانسر ادارے سے بات چیت کررہے ہیں،روزگار فراہم کرنے والے اداروں سے بھی رابطہ کرکے متاثرین کیلیے کام تلاش کرنے کی کوشش ہے۔

دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا کے ایگزیکٹیو عہدوں پر کام کرنے والوں نے 80 فیصد ملازمین کو گھر بٹھا دیا، دیگر کو 20 فیصد تنخواہ دی جارہی ہے جبکہ اپنی تنخواہوں میں صرف 20 فیصد کٹوتی کی،اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کیون رابرٹس نے کہاکہ موجودہ حالات میں جس سے جتنا کام لینے کی ضرورت باقی رہ گئی، اس کو تنخواہ بھی اسی حساب سے دی جا رہی ہے۔

 

The post کرکٹ آسٹریلیا ملازمین کو سپراسٹورمیں کام دلانے لگا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3av8wiP

پہلی بار سلیکشن میں ناکامی پر رات بھر روتا رہا تھا، ویرات کوہلی

ممبئی: بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے انکشاف کیاکہ پہلی بار سلیکشن میں ناکامی پر وہ رات بھر روتے رہے تھے۔

ویرات کوہلی نے اسٹوڈنٹس سے آن لائن بات چیت کے دوران زندگی میں ہمیشہ مثبت چیزوں پر دھیان دینے کی تلقین کردی، کوہلی نے بتایا کہ پہلی بار جب مجھے اسٹیٹ سلیکشن میں مسترد کیا گیا تو میں رات دیر تک روتا رہتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں 2 گھنٹے تک اپنے کوچ سے پوچھتا رہا کہ بڑے اسکور اور بہتر پرفارمنس کے باوجود مجھے کیوں مسترد کیا گیا، میرے لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنا مشکل تھا، مگر جب آپ محنت جاری رکھیں تو پھر دوبارہ کوشش کا حوصلہ ملتا اور کامیابی حاصل ہو ہی جاتی ہے۔

 

The post پہلی بار سلیکشن میں ناکامی پر رات بھر روتا رہا تھا، ویرات کوہلی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bwmkuN

مساجد میں اسپرے پنکھے سے نمازیوں پر کیمیکل کا چھڑکاؤ

کراچی: مساجد کی انتظامیہ نے باجماعت نماز کی ادائیگی کے آغاز کے ساتھ ہی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کے لیے مرکزی دروازوں پر سینی ٹائزر گیٹ کے بجائے کولڈ واٹر کولر پیڈسٹل پنکھے(اسپرے فین ) نصب کردیے ہیں جو سینٹائزر گیٹس کا کام کررہے ہیں۔

سینی ٹائزر پنکھوں سے نمازیوں پر ڈیٹول ملے پانی اور دیگر کیمیکل کے محلول کا اسپرے کیا جارہا ہے، ان اقدامات کا مقصد کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد بھی ہے۔

مقامی مسجد کمیٹی کے منتظم آصف اقبال نے ایکسپریس کو بتایا کہ صدر مملکت اور علماکے درمیان مساجد اور امام بارگاہوں میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے جو احتیاطی تدابیر (ایس او پیز) طے ہوئی ہیں ان پر بھرپور طریقے سے عمل کیا جارہا ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں داخل ہونے سے قبل نمازی اپنے ہاتھ صابن سے دھورہے ہیں دروازوں کے باہر واش بیسن اور نلکے نصب کیے جارہے ہیں جس کے ساتھ صابن رکھا ہوگا۔

مساجد کی آمدن کم ہونے سے گیٹس لگانا مشکل ہو گیا

سینی ٹائزر گیٹس مہنگے ہیں جو ایک لاکھ سے زائد روپے تک میں مل رہے ہیں اس کا متبادل حل یہ نکالا گیا ہے کہ کئی مساجد اور امام بارگاہوں کے داخلی دروازوں پر کولڈ واٹر کولر پیڈسٹل پنکھے نصب کیے گئے ہیں یہ پنکھے سینی ٹائزرگیٹس کا کام کررہے ہیں، ان پنکھوں کے ساتھ ایک واٹر کولر نصب ہے جس میں صاف پانی بھرا جاتا ہے جس میں ڈیٹول ملادیا جاتا ہے اس طرح ڈیٹول ملا محلول بن جاتا ہے یہ پنکھے بجلی سے چلتے ہیں ڈیٹول ملا ٹھنڈا پانی اسپرے کرتے ہیں۔

پنکھے سے ایک بار150سے 200 نمازیوں پر اسپرے ہوجاتا ہے یہ پنکھے 5 وقت نماز میں چلائے جاتے ہیں نماز سے 15 منٹ قبل آن کردیے جاتے ہیں اور نماز کے20 منٹ بعد بند کیے جاتے ہیں اس طرح نمازیوں کو جراثیم  سے محفوظ بنانے کے لیے اسپرے کیا جارہا ہے۔

اسپرے فین 12ہزار سے14ہزار تک فروخت ہورہا ہے،عمیر فاروقی

کولڈ واٹر کولر پیڈسٹل پنکھے فروخت کرنے والے دکاندار عمیر فاروقی نے بتایا کہ یہ پنکھے گوجرانوالہ، گجرات اور لاہور سے منگوائے جاتے ہیں  ایک پنکھا 12ہزار سے 14 ہزار تک فروخت کیا جارہا ہے۔

مساجد کے علاوہ دفاترکے دروازوں پر بھی اسپرے فین لگائے جا رہے ہیں

سینی ٹائزر گیٹس کی جگہ استعمال ہونے والے کولڈ واٹر کولر پیڈسٹل (اسپرے فین)  پنکھے فروخت کرنے والے عمیر فاروقی نے بتایا کہ ان پنکھوں کا اسٹاک فی الحال ہے جب الیکٹرانکس مارکیٹس کھل جائیں گی تو ان کی فروخت بڑھ جائے گی یہ پنکھے سینی ٹائزر گیٹس کے متبادل کے طور پر کام کررہے ہیں اسپرے فین مساجد کے علاوہ مختلف اداروں اور دفاتر کے دروزاوں پر بھی نصب کیے جارہے ہیں۔

The post مساجد میں اسپرے پنکھے سے نمازیوں پر کیمیکل کا چھڑکاؤ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3asoRER

شیرخوار بچے والدین کی آغوش کو پہچانتے ہیں

ٹوکیو: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر شیرخوار یا نومولود بچے کو والدین گلے لگائے تو وہ اجنبی کی آغوش سے اس کا امتیاز کرتے ہوئے فرق کو محسوس کرسکتا ہے۔

پیدائش کے پہلے برس بچہ جذباتی، نفسیاتی اور فعلیاتی انداز میں تیزی سے پروان چڑھتا ہے۔ اگرچہ وہ بول نہیں سکتا لیکن اپنے والدین سے تعلق استوار کرتا ہے۔ جاپان کی ٹوہو یونیورسٹی کے پروفیسر سیچائن یوشیدا نے اس ضمن میں اپنی تحقیق پیش کی ہے جس کے تحت بچے نفسیاتی اور فعلیاتی طور پر گلے لگانے اور آغوش کا احساس کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ بچے کو بانہوں میں بھرنا ایک عام بات ہے لیکن اس کی ہمیں بہت کم معلومات تھیں۔ جیسے ہی ایک چار ماہ کے بچے کو گلے لگایا جاتا ہے تو وہ بہت سکون محسوس کرتا ہے، جبکہ کھانا دینے سے یہ تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اگرچہ بچے کو گلے لگانے کا عمل اسے تھامنا بھی ہے تو دوسری جانب ہم اسے کھانا دینے کے لیے بھی آغوش میں لیتے ہیں۔

لیکن بچے کو سینے سے لگانے سے اس کی ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھتا ہے لیکن بچہ اس سے پریشان ہونے کی بجائے اس سے خوش ہوتا ہے اور اس کے دل کی دھڑکن پر مثبت اثر ہوتا ہے۔

اس ضمن میں ماہرین نے 20 ، 20 سیکنڈ تک بچے کو اٹھانے، سینے سے لگانے اور مزید زور سے پھینچنے کے تجربات کئے اور اس دوران بچے کے دل کی دھڑکن کو آر آر ائی طریقے سے نوٹ کیا گیا۔ اس ٹیسٹ میں بچے کی ماں اور والد نے بھی شرکت کی جنہیں بچہ تھمایا گیا تھا۔

اس سے معلوم ہوا کہ جیسے ہی بچے کو والدین نے گلے لگایا اس کے دل کو قدرے سکون ملا اور وہ آرام محسوس کررہا تھا۔ لیکن والدین کے علاوہ کسی اور نے انہیں گلے لگایا تو اس سے بچے پر کوئی فرق نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں اور باپ کی آغوش بچے کی صحت پر بہترین اثر ڈالتی ہے۔ اس دوران خود والدین پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوئے۔

اس تحقیق سے بہت سارے دلچسپ انکشافات کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ والدین شیرخوار بچوں کو گلے یا سینے سے لگائیں تو اس کے بہت سے فوائد سامنے آتے ہیں۔

The post شیرخوار بچے والدین کی آغوش کو پہچانتے ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3eJ4vL6

اکیلی بیٹیاں، ان پڑھ مائیں

دستک اتنی ہلکی بلکہ دبی دبی سی تھی کہ بمشکل ہی گیٹ کھولا گیا۔ باہر دیکھا تو وہ دوسرے گیٹ پر کھڑی تھی۔ اشارے سے بلایا، جھجھکتا سمٹا سمٹایا سا نسوانی وجود۔ چہرہ دوپٹے سے نقاب کیا گیا تھا۔ وبائی حالات میں اس کی حالتِ زار ہمارے کسی سوال کی متحمل نظر نہ آتی تھی۔ انجانی نقاب پوش کو دیکھ کر ہماری جھجھک کو وہ بھانپ گئی اور فوراً ہی اپنے اور شوہر کے شناختی کارڈز کی کاپیوں کو سامنے کر دیا۔ ’’آپ گھبرایے نہیں میں کوئی پیشہ ور مانگنے والی نہیں ہوں۔ تیسرا دن ہوگیا، بچے روٹی کےلیے ضد کر رہے ہیں تو مجبوراً مانگنے نکلی ہوں۔‘‘ گھر کے حالات سے معلوم ہوا اس کے نو بچوں میں آٹھ بیٹیاں ہیں، کچھ بڑی شادی شدہ اور باقی چھوٹی بچیاں گھر میں سب سے چھوٹے بھائی اور معذور باپ کے ساتھ۔ دورانِ گفتگو وہ اپنی بچیوں کی شرافت، دینی رنگ اور سلائی کے ہنر کا ذکر کرتی رہی کہ کورونا کے ڈر سے لوگ کپڑے نہیں سلوا رہے۔ مجھ سے حالات درست ہونے پر کپڑے سلوانے کا اصرار کیا۔ قصہ مختصر خوش اور مطمئن حالت میں رخصت ہو گئی۔

چند دن بعد اس کی بیٹیوں کی سلائی کا کام یاد آنے پر اس کے دیئے گئے نمبر پر بات کرنا چاہی۔ ماں کے گھر پر موجود نہ ہونے کے باعث بچیوں نے کال اٹینڈ نہ کی۔ واٹس ایپ پر میسج آنے پر ضروری بات ہو گئی۔ پروفائل پکچر کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ ماں نے بچیوں کا جو نقشہ کھینچا تھا، انتہائی شریف پردے دار مدرسے کی طالبات، تصویر بالکل الٹ، انتہائی ماڈرن آزاد قسم کی ٹین ایجر لڑکی۔ حیرت ناک افسوس ہوا۔ کچی آبادیوں، کچے گھروں، کچے ذہنوں کی شریف بچیوں کی آئیڈیل ایسی آزاد ماڈرن، حیا کی دہلیز کو پار کرتی لڑکیاں! ماں کی چشم پوشی تھی یا بےخبری؟ دونوں ہی صورتیں خطرناک نتائج کا الارم/ انتباہی گھنٹی تھیں۔

اس گھنٹی کی گونج میں اپنے ہاں کام کرنے والی ایک نئی ماسی کا غمناک چہرہ سامنے آ گیا۔ پرانی ماسی کے چھٹی پر گاؤں جانے کی وجہ سے عارضی طور پر کام پر آرہی تھی۔ کسی بھی نئی ماسی سے خوب اچھی طرح واقفیت لینا اور اس سے اچھا تعلق رکھنا ہماری کوشش رہتی ہے۔ مگر اس بار گھر میں مقیم مہمانوں کی مصروفیت کے باعث اس سے بات کا زیادہ موقع نہیں مل سکا تھا۔ اس کے کام کا وقت بھی صبح ہی ہی کا ہوتا تھا۔ ایک گھنٹہ تیزی سے کام کرتے ہوئے آنسوؤں سے جھلملاتی آنکھوں کے ساتھ اس کا چہرہ سخت غمناک رہتا تھا۔ اصرار کرنے کے باوجود ناشتہ نہ کرنا اور طبیعت کا حال بھی اچھا بتانا، اطمینان بخش نہ تھا۔ ایک دن موقع پا کر اس کے کاموں میں بہانے سے کمی کی۔ حال دریافت ہوا تو جیسے قدموں تلے سے زمین ہی کھسکنے لگی۔ چند دن قبل اس کی سولہ سالہ نوعمر بیٹی اغوا ہوگئی یا گھر سے بھاگ گئی تھی۔ (بچی، ماں کے کام پر ہونے کی صورت میں گھر میں چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ، بڑوں کی موجودگی کے بغیر ہوتی تھی۔) پولیس اور خاندان والوں کی سرتوڑ کوششوں کے بعد وہ بچی بازیاب ہو گئی، اپنے اندر ایک اور وجود کے اضافے کے ساتھ۔

خیالات کی کڑی ایسے ہی ایک اور واقعے سے جا ملی۔ محلے میں ایک پوش گھرانے میں خاتونِ خانہ کا انتقال ہوا۔ کچھ ہی عرصے بعد صاحب خانہ اپنی بچیوں کی ہم عمر نوجوان گھریلو ملازمہ پر نیت خراب کر بیٹھے اور بالآخر اس نیت پر عملدرآمد بھی ہوگیا۔ (زیادتی کی شکار لڑکی کے خاندان کا احتجاج الگ قصہ ہے۔)

کڑی سے کڑی ملتی ہے اور خیالات کا سلسلہ دراز ہوتے ہوئے ایک اور واقعہ یاد دلاتا ہے۔ محلے کا پارک ہے۔ یہاں صبح و شام کے اوقات میں ورزش اور ہوا خوری کرنے والوں سے رونق رہتی ہے۔ دوپہر میں گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ البتہ ماسیوں کا کوئی نہ کوئی جوڑا وہاں بیٹھا نظر آتا ہے۔ ایک دن چوکیدار سے پتا چلا کہ یہ غیرشادی شدہ جوڑے ہوتے ہیں۔ گھریلو ملازم لڑکیاں ایک گھر سے دوسرے گھر جاتے ہوئے اپنے بوائے فرینڈز کے ساتھ دوستیوں کی پینگیں بڑھاتی ہیں۔ ان کے خلاف کاروائیاں بھی ہوتی رہتی ہیں؛ مگر کچھ دنوں بعد پھر کوئی نیا جوڑا وارد ہوجاتا ہے۔

خیالات کی کڑی سے ملنے والا آخری منظر سب سے زیادہ بھیانک ہے۔ ایک نوعمر مقتول بیٹی کی ماں نے کہیں سے ہمارا نمبر پا کر فون پر رابطہ کیا۔ روتے دہاڑتے مطالبہ کر رہی تھی، ’’آپ میڈیا میں لکھتی ہیں، میری مقتول بیٹی پر ہونے والا ظلم بھی لکھیے، شاید کہ قاتل کی نشاندہی ہو، وہ پکڑے جا سکیں۔ قاتلوں کو سزا سے ہی میری بےقرار ممتا کو کچھ چین نصیب ہو گا…‘‘ (بدنصیب ماں کو انصاف کے ایوانوں کا حال معلوم نہ تھا شاید۔) اس کے بقول اس کی بیٹی بہت نیک، پردے دار اور مدرسے و اسکول کی ذہین سولہ برس کی طالبہ تھی۔ ایک دن اسکول جا کر گھر واپس نہیں آئی۔ اسکول والوں کے مطابق وہ اس دن اسکول آئی ہی نہیں تھی۔ پولیس کارروائی سے پتا چلا کہ اسے محلے کے لڑکے اغوا کرکے گاؤں لے گئے تھے۔ ایک ڈیڑھ ماہ تک اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش قریبی کھیتوں میں پھینک دی گئی۔

زمان و مکان کے لحاظ سے یہ کوئی دور دراز نہیں بلکہ اردگرد سے براہ راست علم میں آنے والے حقائق ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی ناہمواریوں کی ایک تکلیف دہ جھلک ہیں۔ ان واقعات میں مشترک بات: ماؤں کا ان پڑھ ہونا، دن کا زیادہ حصہ خود کام پر ہونا اور بیٹیوں کا ماں سے الگ اکیلے رہنا یا اکیلے کام پر جانا ہے؛ اور ماں کی نگرانی کے بغیر آزادانہ اینڈرائیڈ فون کا استعمال۔ ان واقعات کے کچھ دیگر محرکات بھی ہیں: گھر کے سربراہ کی غیرذمہ داری، معاشی بدحالی؛ حکومتی بے حسی وغیرہ۔

ان سب میں ہم (یعنی ان سے بہتر) خواتین کے لحاظ سے اہم بات: یہ ہمارے اور آپ کے گھروں کے بڑے بڑے کاموں سے ہمیں ہلکا اور کسی حد تک آزاد رکھنے والی مددگار عورتیں ہیں۔ وبا کے گزرتے حالات اور ماسیوں کی چھٹی میں اس کا بخوبی اندازہ ہو رہا ہو گا۔ جس اسلامی معاشرے کے احکام میں بندوں کے بندوں پر حقوق کے ضمن میں پہلو کے ساتھی (کم سے کم وقت کا ساتھی) کے بھی حقوق کی ادائیگی کی تاکید ہے، وہاں ہم ان ماسیوں سے مشینی انداز میں کام لینے اور لگا بندھا معاوضہ ادا کرنے کے ساتھ کچھ حسن معاملہ کتنا کر پاتے ہیں؟ وبائی ماحول، رمضان کے نیکیوں کے موسم بہار کی قربت، سماجی فاصلے، آن لائن قربت کا ذریعہ بن گئے۔ دنیا اور آخرت کے فائدوں سے ایک دوسرے کو مستفید کرنے کا مقابلہ ہے۔

پڑھے لکھوں کے مشورے، دروس، نصیحتیں، پڑھے لکھوں ہی کی دسترس میں ہیں۔ اس ان پڑھ طبقے کی پہنچ ٹی وی ڈراموں تک ہے جس کے اثرات سے تو سب باخبر ہیں، لیکن نتائج سے سبق سیکھنے سے سب بے خبر رہنا چاہتے ہیں۔ کورونا جیسے نہ نظر آنے والے وائرس نے ببانگ دہل خبردار کردیا کہ انسان کی بقا انسانیت، اسلامیت کے باقی رہنے میں ہے۔

کتنا اچھا ہو کہ حالات کی کروٹ پر ہمارا بھی احساس جاگے۔ ایسی ان پڑھ گھریلو ملازم ماؤں اور ان کی بیٹیوں کی بھی ضروری تعلیم تربیت کی جائے۔ مجبوراً نوعمر لڑکیاں ملازم رکھی جائیں تو ان کی تربیت اور عفت و پاکدامنی کا بھی زیادہ خیال رکھا جائے۔ اصلاح کی غرض سے ان کے گھریلو ماحول کی خبرگیری کی جائے۔ بیٹیوں کی اچھی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت کی ترغیب دی جائے کہ ایک عورت کی تعلیم ایک نسل کی تعلیم ہے۔ سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ ہر کچی پکی آبادی میں مساجد کا انتظام اور سیاسی جماعتوں کا نیٹ ورک موجود ہے۔ وہاں کے مکینوں کی تعلیم و تربیت کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے مساجد سے جوڑا جائے۔

ہر فرد اپنے زیرِ اثر افراد کےلیے آخرت میں جواب دہ ہو گا۔ ہمارے پاس اس کی کتنی تیاری ہے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post اکیلی بیٹیاں، ان پڑھ مائیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2wXJ47M

ہیرے سے بنے نینو دھاگے لیتھیئم آئن بیٹریوں سے تین گنا زائد مؤثر

کوئنز لینڈ: اس وقت موبائل فون اور دیگر آلات بہت تیزی سے ترقی کررہے ہیں لیکن ان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بیٹریاں اب بھی اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ پارہیں۔ اس کےلیےایک نیا طریقہ وضع  کرتے ہوئے ہیرے کے نینو دھاگے کے بنڈلوں کو توانائی جمع کرنے کا ایک کامیاب مظاہرہ کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹٰی آف کوئنزلینڈ کے ڈاکٹر ہیفائی زان اور ان کے ساتھیوں نے یک جہتی (ون ڈائمینشنل) کاربن نینو دھاگے تیار کئے ہیں جنہیں بل دے کر ان میں میکانکی توانائی جمع کی جاسکتی ہے۔ یہ نینودھاگے ایک عرصے سے سائنسدانوں کے زیرِ مشاہدہ ہیں۔

اس کےبعد پروفیسر ہیفائی اور ان کے ساتھیوں نے سوچا کہ اگر ہیرے سے اخذ کردہ کاربن نینو دھاگے میں بجلی بھری جائے تو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ انہوں نے کمپیوٹر ماڈلنگ پر نظری طور پر اس کا مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ فی کلوگرام1.76  میگا جول توانائی بھری جاسکتی ہے اور یہ بہترین لیتھیئم آئن بیٹریوں سے بھی تین سے چار گنا زائد ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب یہ طریقہ قدرے محفوظ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اگر ہیرے کے نینو دھاگے سے بیٹریاں بنائی جائیں تو عام بیٹریوں کی طرح پھولنے ، لیک ہونے اور خراب ہونے سے محفوظ رہیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی جسم میں پیس میکر اور دیگر آلات چلانے کے لیے انہیں سہولت سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر کاربنی دھاگے والی بیٹریاں بنتی ہیں تو انہیں جسمانی پیوند، خلائی جہاز، برقی کپڑوں اور دیگر اشیا میں استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی ساخت عین دھاگے نما ہی ہے۔

The post ہیرے سے بنے نینو دھاگے لیتھیئم آئن بیٹریوں سے تین گنا زائد مؤثر appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3eL42YP

رمضان کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا آج اجلاس

کراچی: رمضان المبارک کا چانددیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کااجلاس آج ہو گا۔

اجلاس مفتی منیب الرحمان کی زیرصدارت محکمہ موسمیات آفس کراچی میں ہوگا جب کہ تمام زونل کمیٹیوں کے اجلاس تمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہوں گے۔ اس کے علاوہ اسلام آبادکی زونل کمیٹی کااجلاس وزارت مذہبی کوہسارکمپلیکس میں ہوگا۔

رمضان المبارک کے چاند کے حوالے سے ملک بھر سے جمع ہونے والی شہادتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین مفتی منیب الرحمان رمضان کا چاند نظر آنے یا نہ نظر آنے کا اعلان کریں گے۔

The post رمضان کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا آج اجلاس appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2xFW3eV

باکسر عامر خان نے لیاری کے 1500 گھرانوں کو راشن پہنچا دیا

کراچی: پاکستانی نژاد برطانوی باکسر کی طرف سے کراچی کے قدیم علاقے لیاری کے 15 سو مستحق گھرانوں کے لیے راشن کی فراہم کردیاگیا۔

انٹرنیشنل باکسر عامر خان کی جانب سے پاکستان میں مستحقین کے لیے راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے جب کہ ان کی طرف سے کراچی کے قدیم علاقے لیاری کے 15 سو مستحق گھرانوں کے لیے راشن کی فراہم کردیاگیا، قومی باکسرنادربلوچ کی مدد سے راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔

سابق عالمی چیمپئن عامر خان کا کہنا ہے کہ لیاری باکسنگ کا گڑھ ہے، لیاری کے لوگ کھیلوں خاص طور پر باکسنگ سے بہت محبت کرتے ہیں،مستحقین کو راشن کی فراہمی میری لیاری سے محبت کا اظہار ہے،پاکستان میں12 ہزار راشن بیگ تقسیم کیے ہیں،60 ہزار مستحق افراد مستفید ہوں گے۔

 

The post باکسر عامر خان نے لیاری کے 1500 گھرانوں کو راشن پہنچا دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3awX0n9

باکو میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد مشکلات کا شکار

کراچی: آذر بائیجان باکو میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد پروازیں بند ہونے کے سبب مشکلات کا شکار ہے اور وطن واپسی کیلیے بے چین ہیں۔

آذر بائیجان میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی بڑی تعداد کا تعلق کاروباری طبقے سے ہے، آذر بائیجان میں پھنسے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ پی آئی اے وطن واپسی کیلیے یکطرفہ کرایہ 85 ہزار روپے وصول کررہی ہے جو سراسر زیادتی ہے، پاکستان پہنچنے کے بعد 15 روز قرنطینہ میں رہنے کے اخراجات الگ مانگے جارہے ہیں جبکہ آذر بائیجان میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے پاس روز مرہ کھانے تک کے پیسے نہیں ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے کوئی مدد نہیں کی جارہی ہے اور بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے، پاکستانیوں نے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کا فوری نوٹس لیں اور ان کی وطن واپسی میں ہر ممکنہ مدد فراہم کریں۔

 

The post باکو میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد مشکلات کا شکار appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3av93kH

قانون کے بغیر حکومت اسکول فیس کم نہیں کرسکتی، عدالت

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے اسکول فیس میں بیس فیصد کمی کیخلاف درخواست پر نوٹیفکیشن پر عمل درآمد روکنے سے متعلق حکم امتناع میں توسیع کردی۔

جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو اسکول فیس میں 20 فیصد کمی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ غلام شبیر شاہ ایڈووکیٹ اور ڈائریکٹر پرائیوٹ اسکولز منصوب صدیقی و دیگر پیش ہوئے، سندھ حکومت نے جواب عدالت میں جمع کرادیا۔

جواب میں کہا گیا کہ صوبے بھر میں 12 ہزار پرائیویٹ اسکولز کے ساتھ درجنوں ایسوسی ایشنز کام کر رہی ہیں، لاک ڈاؤن کے دوران 20 فیصد رعایت صوبے بھر کے پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بعد دے گئی، لاک ڈاؤن کے دوران تمام اسکولوں کے آپریشنل فنکشن بھی بند ہیں، لاک ڈاؤن کے دوران اسکولوں کے اخراجات میں 40 فیصد کمی آچکی ہے اور رعایت 20 فیصد کی گئی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آئندہ سماعت پر بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت اسکول فیسوں میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ زبردستی فیس کم کرنے کا کہا جا رہا ہے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ فیس میں 20 فیصد کمی سے اسکول مالکان کوئی نقصان نہیں ہو گا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ سارا پیسہ مان لیں اسکول مالکان گھر لے جا رہے ہیں مگر کس قانون کے تحت فیس کم کی گئی ہے؟ سماعت کے دوران بچوں کے والدین نے بات کرنی چاہی جس پر عدالت نے انھیں روک دیا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ اسکول بند ہیں 80 فیصد فیس لینے کا کہا گیا ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ تمام نوٹفیکشن واپس لیں ہم درخواست نمٹا دیتے ہیں، قانون بنائیں، قانون کے بغیرحکومت اسکول فیس کم نہیں کر سکتی، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ ایک ماہ کی مہلت دی جائے، کیبنٹ کی میٹنگ نہیں ہو رہی ہے، لاک ڈاؤن اور کرونا وائرس کی وجہ سے بچوں کو فیس کی عدم ادائیگی پر نکالا نہیں جا سکتا ہے۔

عدالت نے اسکول فیس میں 20 فیصد کمی کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد روکنے سے متعلق حکم امتناع میں توسیع کر دی، عدالت نے گذشتہ سماعت پر سندھ حکومت کی جانب سے اسکول فیسوں میں 20 فیصد کمی کے نوٹفیکشن پر عمل درآمد روک دیا تھا، اسکول مالکان کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت تک فیس کی عدم ادائیگی پر بچوں کو اسکولوں سے بھی نہیں نکالا جائے گا۔

عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی، سماعت کے بعد غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ غلام شبیر شاہ نے کہا کہ حکومت نے والدین او اسکول مالکان سے مشاورت کے بعد بیس فیصد فیس میں رعایت دی، تمام آپریشنل بند ہیں اسکول کے بجلی وغیرہ اخراجات نہیں ہو رہے ہیں، صرف درخواست دائر کرنے والے اسکولوں پر حکم امتناع کا اطلاق ہو گا، باقی اسکولوں پر سندھ حکومت کے بیس فیصد فیس میں کمی کا اطلاق ہو گا۔

 

The post قانون کے بغیر حکومت اسکول فیس کم نہیں کرسکتی، عدالت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Vshs46

ذخیرہ اندوزی ناقابل ضمانت جرم، آرڈیننس جاری، 3سال قید کی سزا

لاہور: پنجاب حکومت نے ایک اور بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ’’دی پنجاب پری وینشن آف ہورڈنگ آرڈیننس 2020 ‘‘کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

’’دی پنجاب پری وینشن آف ہورڈنگ آرڈیننس 2020 ‘‘ کے تحت ذخیرہ اندوزوں کو تین سال قید تک کی سزا دی جاسکے گی ، ضبط کی جانیوالی اشیاء کی 50 فیصد رقم قومی خزانے میں جمع ہو گی ، آرڈیننس کے تحت متعلقہ افسر معلومات کی بنا پر کسی ڈیلر کے گودام بغیر وارنٹ چیک کر سکتا ہے ، ڈیلر اپنی پیداور ، ایکسپورٹ ، امپورٹ ، سٹاک ، سیلز اور ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے ریکارڈ متعلقہ افسر کے پاس جمع کرانے کا پابند ہو گا۔

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی بحران پیدا کرنیوالوں کیخلاف سخت ایکشن لینے کے لئے آرڈیننس جاری کیا ، ادویات ، آٹا ، چینی ، دالیں ، چائے ، خوردنی تیل ، مچھلی ، انڈے ، دودھ ، گوشت ، فیس ماسک ، سینی ٹائزر ، سرجیکل ماسک ، کھاد بنانے کا کیمیکل ، زرعی ادویات ، آلو ، پیاز سمیت 41 اشیاء ضروریہ ذخیرہ کرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہو گی ، آرڈیننس کے تحت ذخیرہ اندوزی کا جرم ناقابل ضمانت ہو گا۔

علاوہ ازیں عثمان بزدار نے صوبے میں کورونا کے تشخیصی ٹیسٹ میں اضافے کیلئے مزید 4 لیب کے قیام کی منظوری دیدی۔

 

The post ذخیرہ اندوزی ناقابل ضمانت جرم، آرڈیننس جاری، 3سال قید کی سزا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2xR8W5Q

فلور ملز ایسوسی ایشن کا 27 اپریل سے ہڑتال کااعلان

لاہور: پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن نے 27 اپریل سے ہڑتال کا اعلان کردیا۔

پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن نے اوپن مارکیٹ سے گندم خریداری پر پابندی اور محکمہ خوراک کے جاری کردہ پرمٹوں پر ترسیل میں رکاوٹوں کے خلاف 27 اپریل سے ہڑتال کا اعلان کردیا جبکہ آج سے پنجاب بھر کی ملیں محکمہ خوراک سے گندم پرمٹ حاصل نہیں کریں گی۔

یہ اعلان گزشتہ روز فلورملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا اور پنجاب کے چیئرمین عبدالرؤف مختار نے رہنماؤں لیاقت خان ، میاں ریاض ، حافظ احمد قادر اور افتخار مٹو سمیت دیگر کے ہمراہ ہنگامی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا ۔

 

The post فلور ملز ایسوسی ایشن کا 27 اپریل سے ہڑتال کااعلان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bubGEI

کورونا: پنجاب میں 18 کھرب تک مالی خسارے کا تخمینہ

لاہور: کورونا کی وجہ سے پنجاب حکومت کو18کھرب روپے تک نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

کورونا سے نمٹنے کیلیے حکومت پنجاب کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں جس سے حکومت کو موجودہ بجٹ میں خسارے کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی احکامات پر پی اینڈ ڈی بورڈ کے حکام نے اس مشکل وقت میں مختلف منصوبوں کو نظرانداز کر کے6 ارب روپے کے فنڈز نان ڈویلپمنٹ کیلیے منتقل کر دییے جو کرنٹ بجٹ میں انتظامی اور دیگراخراجات پر استعمال کیے جائیں گے۔

 

The post کورونا: پنجاب میں 18 کھرب تک مالی خسارے کا تخمینہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2KqVjNh

اسلامی ترقیاتی بینک پاکستان اور دیگر کو 2.3 ارب ڈالر دے گا

اسلام آباد: اسلامی ترقیاتی بینک نے کورونا وائرس سے پیدا صورتحال سے مقابلے کیلیے پاکستان کومعاونت کی یقین دہانی کرادی۔

اسلامی ترقیاتی بینک کے بورڈ نے پاکستان سمیت دیگررکن ممالک کو مختصر، درمیانے اور طویل عرصے میں وبائی اثرات سے محفوظ رکھنے اور بحالی کیلئے 2.3 ارب ڈالر کے اسٹرٹیجک رسپانس پیکیج کی منظوری دیدی ہے۔

انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن کو تیل اورایل این جی کی درآمد کیلئے500 ملین ڈالراوراثرات سے نمٹنے کیلیے 150 ملین ڈالر کی امداد کوحتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

The post اسلامی ترقیاتی بینک پاکستان اور دیگر کو 2.3 ارب ڈالر دے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bAyfrq

کورونا وائرس طویل عرصہ رہے گا، عالمی ادارہ صحت

واشنگٹن / برلن / ریاض: دنیا میں 26 لاکھ 22 ہزار افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 82 ہزار سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈراس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس ایک طویل عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گا،مغربی یورپ میں تو وبا کے پھیلاؤ میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے لیکن افریقہ، مشرقی یورپ، وسطی اور جنوبی امریکہ میں اس حوالے سے پریشان کن اشاریے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، ابھی ایک طویل دورانیہ باقی ہے، یہ وائرس ایک طویل عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گا، چین نے امریکی ریاست میسوری کی جانب سے کورونا وائرس پھیلانے کے مقدمہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ژینگ شوانگ نے بدھ کوروزانہ بریفنگ میں کہا کہ اس قانونی کارروائی کی کوئی حقیقت پسندانہ اور قانونی بنیاد نہیں ہے، اس وباء کا آغاز ہونے کے بعد سے چین نے شفاف اور ذمہ دارانہ اندازمیں وبا کو روکنے کے اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اورحکومت کو اس طرح کی تکلیف دہ قانونی چارہ جوئی کو مسترد کرنا چاہیے، ادھر امریکا میں 2750 مزید اموات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 45 ہزار اور متاثرین کی تعداد 8 لاکھ سے زائد ہو گئی۔

ریاست نیویارک میں 257125 کیسز ہیں اور یہاں مجموعی 18821 افراد ہلاک ہوئے ہیں، برطانیہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 763 افراد ہلاک ہونے کے بعد ملک میں کل اموات کی تعداد 18100 ہو گئی ہے، اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 437 اموات ہوئی ہیں جس سے کل اموات 25085 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، اسپین میں اب تک 21282 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق رمضان المبارک میں کرفیو میں نرمی کر دی جائے گی، صبح 9 سے شام 5 بجے تک باہر نکلنے کی اجازت ہو گی، بحرینی حکومت کی جانب سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران عوامی و تفریحی مراکز پر عائد پابندیوں میں 7 مئی تک توسیع کر دی گئی ہیں۔

 

The post کورونا وائرس طویل عرصہ رہے گا، عالمی ادارہ صحت appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bwDkRt

باجماعت تراویح اور افطار پارٹیوں پر پابندی لگائی جائے، پی ایم اے کا وزیر اعظم کو خط

کراچی: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم عمران خان کو رمضان المبارک میں باجماعت تراویح اور افطار پارٹیوں پر پابندی لگانے کیلیے مکتوب ارسال کیا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم عمران خان کو مکتوب ارسال کیا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ رمضان المبارک میں باجماعت تراویح، نماز جمعہ و پنجگانہ و اعتکاف اور افطار پارٹیوں، مذہبی و غیر مذہبی اجتماعات پر پابندی لگائی جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ شہادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موقع پر مجالس اور جلوسوں کو روکا جائے۔ اگر کورونا کی وبا نے پھیلاؤ اختیار کیا تو ہم ناکافی وسائل کے ساتھ اسے نہیں روک سکیں گے۔

 

The post باجماعت تراویح اور افطار پارٹیوں پر پابندی لگائی جائے، پی ایم اے کا وزیر اعظم کو خط appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Y23GXF

میں اور تقی عثمانی گھر پر نماز پڑھیں گے، مفتی منیب الرحمان

کراچی: رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ ماہ صیام کے دوران میں اور مفتی تقی عثمانی گھر پر ہی نماز ادا کریں گے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ میں گھر پر ہی نماز ادا کررہا ہوں اور رمضان میں بھی یہی سلسلہ رہے گا، حکومت اور علما کے درمیان 20 نکاتی معاہدے پر عمل شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام علما حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کریں، ہم ہر صورت معاہدے کو یقینی بنائیں گے، صدر اور وزیراعظم سے وعدہ کیاہے کہ 50سال سے زائد عمر والے مسجد نہیں آئیں گے۔

 

The post میں اور تقی عثمانی گھر پر نماز پڑھیں گے، مفتی منیب الرحمان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34W4fE1

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ٹیلی فونک رابطہ

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ 

وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں علاقائی امور، دوطرفہ تعاون، کووڈ19 وبائی امراض سے وابستہ مسائل اور عالمی معیشت پراثرات کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جب کہ امریکی صدر نے وبا کا مقابلہ کرنے کیلیے امداد کایقین دلایا۔

وزیر اعظم عمران خان نے امریکا میں کورونا سے قیمتی جانوں کے ضیاع پراظہارافسوس کیاجبکہ پاکستان میں پھیلاؤپر قابو پانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیماری اورکمزور طبقات کو بھوک سے بچانے کے دہرے چیلنج کا سامنا ہے، متاثرین اور کاروباری اداروں کے لیے8  ارب ڈالر کا پیکیج دیا۔ آئی ایم ایف اور دیگر حلقوں میں حمایت پرامریکا کا شکریہ ادا کرتے ہیں،مالی امداد سے بیماری کے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے افغان امن عمل کی سہولت کاری کیلیے عزم کا اعادہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نے ان اقدامات کی اہمیت پر زور دیا جس کے نتیجے میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہو گا۔ وزیر اعظم کے کورونا ٹیسٹ پرامریکی صدرنے جدیدتیز رفتار ٹیسٹنگ مشین بھیجنے کی پیش کش کی۔

 

The post عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ٹیلی فونک رابطہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3cDPMiA

ہم دنیا کے بہترین مسلمان ہیں

محمد ربیع شحاتہ یوسف مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے معروف مذہبی رہنما ہیں‘ یہ جمعہ کی نماز کی امامت بھی کراتے ہیں‘ مصر میں امام حضرات حکومت کے ملازم ہوتے ہیں‘ یہ اپنی مرضی سے نماز پڑھا سکتے ہیں اور نہ خطبہ دے سکتے ہیں‘ تبلیغ کی اجازت بھی ریاست دیتی ہے‘ پاکستان کی طرح کوئی بھی شخص یا جماعت اٹھ کر تبلیغ شروع نہیں کر دیتی یا کوئی بھی کچا پکا عالم لائوڈ اسپیکر آن کر کے خطاب نہیں فرمانے لگتا۔

میں آج کل کراچی کے ایک ذاکر کے ایمان افروز خطبات سن رہا ہوں‘ یہ کبھی برما کے جنگلوں میں لوگوں کو مار کر زندہ فرما دیتے ہیں اور کبھی چین کے سمندروں میں پانی پر گھوڑا دوڑا دیتے ہیں اور ڈوبے ہوئے شہزادے کو ایک ہاتھ سے زندہ باہر نکال لیتے ہیں‘ یہ اپنے زائرین اور حاضرین سے کلپ بنواتے ہیں‘ سوشل میڈیا پر لگواتے ہیں‘ کلپس وائرل ہوتے ہیں اور ریاست میں اتنی بھی جان نہیں کہ یہ ان سے درخواست کر سکے ’’جناب ذرا ہاتھ ہلکا رکھیں‘ پوری دنیا ہم پر ہنس رہی ہے‘‘ لیکن مصر میں ایسا نہیں ہوتا‘ حضرت امام شافعی ؒ کے ملک میں تمام علماء کرام‘ مساجد‘ جماعت خانے اور مدارس ریاست کی نگرانی میں کام کرتے ہیں اور مصر وہ ملک ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے قرآن مجید اترا حجاز میں تھا لیکن اسے پڑھا (قرات) مصریوں نے ہے‘ مصری قاری آج بھی دنیا میں نمبر ون ہیں۔ہم محمد ربیع شحاتہ کی طرف آتے ہیں۔

مصری حکومت نے کورونا کے بعد 21 مارچ کو ملک کی تمام مساجداور چرچزبندکر دیے‘ نماز جمعہ پر بھی پابندی لگا دی گئی لیکن امام مسجد محمد ربیع شحاتہ یوسف نے چھپ کر اپنے گھر میں جمعہ پڑھانا شروع کر دیا‘جمعہ 17 اپریل کو مخبری ہو گئی‘ امام صاحب کے گھر پر چھاپہ پڑا اور یہ مقتدیوں سمیت ’’رنگے ہاتھوں‘‘پکڑے گئے‘ حکومت نے انھیں حراست میں بھی لے لیا‘ انھیں امامت سے برطرف بھی کر دیا اور ان کا خطابت کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا لہٰذا علامہ محمد ربیع شحاتہ یوسف اب ملک کے کسی حصے میں خطاب اور امامت نہیں کر سکیں گے‘ کیوں؟

کیوں کہ مصر میں حکومت خطاب‘ قرات اور امامت تینوں کا لائسنس جاری کرتی ہے اور لائسنس کے لیے باقاعدہ کوالی فکیشن اور ٹیسٹ ہوتا ہے‘ وہاں کوئی بھی شخص صرف داڑھی رکھ کر صوفی‘ امام‘ خطیب‘ مولانا یا علامہ نہیں بن جاتا‘ وہاں مذہب انجینئرنگ اور ڈاکٹری سے زیادہ مشکل ہے‘ مصر میں ڈاکٹر یا انجینئر کوئی بھی بن سکتا ہے لیکن عالم ہر کوئی نہیں کہلا سکتا۔

یہ مصر کی صورت حال تھی‘ آپ باقی اسلامی ملکوں کی صورت حال بھی دیکھ لیجیے‘سعودی عرب مسلمانوں کی مقدس ترین سرزمین ہے‘ اسلام مکہ اور مدینہ سے نکلا اور ہم ان دونوں شہروں کی خاک کو سرمہ سمجھ کر آنکھوں میں لگاتے ہیں‘ سعودی عرب کی حکومت نے 20 مارچ کو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی بند کر دی‘ یہ دونوں اس وقت بھی بند ہیں‘ دونوں شہروں میں کرفیو ہے‘ ملک بھر میں مساجد بھی بند ہیں‘ نماز تراویح پر بھی پابندی ہے اورایک ماہ سے جمعہ کے اجتماعات بھی معطل ہیں۔

ایران دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے‘ ایرانی مساجد بھی مارچ کے پہلے ہفتے سے بندہیں‘ امام علی رضاؒ اورفاطمہ معصومہؒکے روضے تک بند کر دیے گئے ہیں‘ عراق میں بھی مارچ سے مساجد‘ مزارات اور روضے بند ہیں‘ کربلا اور نجف اشرف کی زیارات بھی مقفل ہیں‘ راستے تک بند کر دیے گئے ہیں‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ مراکو‘ لیبیا‘ قطر‘ اردن‘ تیونس‘ ترکی‘ملائیشیا‘ تاجکستان‘ ازبکستان‘ الجیریا‘افغانستان‘ بحرین‘ مالدیپ‘ انڈونیشیا‘ بھارت‘ بنگلہ دیش اور چیچنیا تک میں مساجد بند اور نمازی گھروں پر نماز پڑھ رہے ہیں‘ آپ ذراغورکیجیے بیت المقدس بھی بند ہے اور اسرائیل میں عیسائیوں اور یہودیوں کی تمام قدیم اور جدید عبادت گاہیں بھی مقفل ہیں‘ فلسطین میں 15 سو سال بعد ایسٹر کی تقریب نہیں ہوئی‘ ویٹی کن سٹی کی عبادات بھی معطل ہو چکی ہیں۔

پوپ سوشل میڈیا پر دعا کراتا اور پوری دنیا کی عیسائی برادری یوٹیوب پر پوپ کا خطاب سن کر آمین کہتی ہے‘ یہودیوں کی دیوار گریہ تک بند کر دی گئی ہے اور اسرائیل کے سینا گوگ بھی سیل ہیں اور تمام بڑے ربی بھی قرنطینہ میں ہیں لیکن آپ کمال دیکھیے 245 ممالک کی اس دنیا اور 58 اسلامی ملکوں کی اس اسلامی دنیا میں صرف ایک ملک ہے جس کی مسجدیں آج بھی کھلی ہیں اور حکومت اور ریاست دونوں میں اتنی جرات‘ اتنی ہمت نہیں کہ یہ کورونا کے خوف کے باوجود انھیں بند کر سکے‘ سعودی عرب نے مکہ اور مدینہ میں کرفیو لگا دیا‘ مسجد نبوی اور خانہ کعبہ بند کر دیا‘ طواف تک معطل کر دیا اور یہ ہو گیا‘ ایران اور عراق نے روضے اور زیارتیں بند کر دیں اور یہ ہو گئیں۔

مصر نے امام اور خطیب گرفتار کر لیے اور یہ ہو گئے اور ملائیشیا اور انڈونیشیا نے علماء کرام کو گھروں تک محدود کر دیا اور یہ بھی ہو گئے‘ یہودیوں نے بھی اپنی عبادت گاہوں کو تالے لگا دیے اور پوپ فرانسس نے بھی ویٹی کن سٹی بند اور چرچوں میں عبادت پر پابندی لگا دی اور یہ لگ گئی لیکن پاکستان میں حکومت یہ جسارت کر سکی اور نہ یہ ہو سکا‘ سعودی عرب شاید اس سال حج کے ویزے نہ کھولے‘ ایران‘ عراق اور شام بھی زیارتوں پر پابندی برقرار رکھیں لیکن ہم یہ کریں گے اور نہ یہ ہو گا۔

حکومت نے 18اپریل کو علماء کرام کے ساتھ مل کر رمضان کے لیے 20 نقاطی ضابطہ اخلاق طے کیا‘ آپ آج لکھ لیجیے‘ اس ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں ہو گا لیکن وہ حکومت جو میاں شہباز شریف کو کورونا کے دوران بھی نیب کے آفس طلب کر لیتی ہے یا پورے ملک کی انڈسٹری‘ دفتر‘ مارکیٹیں اور تعلیمی ادارے بند کر دیتی ہے‘ اس میں کسی خطیب‘ کسی امام کے خلاف ایکشن لینے کی ہمت نہیں لہٰذا ریاست اس 20 نقاطی ضابطہ اخلاق پر عمل نہیں کرا سکے گی‘یہ آج تک علماء کرام کو چاند پر متفق نہیں کر سکی اور یہ تو ضابطہ اخلاق ہے‘ آپ ہمارے ایمان کی مضبوطی اور مذہب سے محبت کی انتہا ملاحظہ کیجیے‘ وہ کام جو سعودی عرب‘ مصر‘ ایران‘ عراق‘ شام اور ترکی میں نہیں ہو سکا‘ وہ ہم پاکستانیوں نے کر دکھایا۔

ہماری مسجدوں میں جمعہ بھی ہوا‘ باجماعت نمازیں بھی ہوئیں‘ تبلیغ کا کام بھی چلتا رہا اور ایران‘ عراق اور شام سے زائرین بھی ملک میں آتے رہے اور ہم چین کے سمندر میں گھوڑے بھی دوڑاتے رہے‘آپ حقیقت دیکھیے‘ خانہ کعبہ‘ مسجد نبوی اور امام علی رضاؒ کا روضہ بند ہو گیا لیکن ہمارے خطاب اور ہماری مسجدیں آباد رہیں‘ ریاست انھیں بند نہ کر سکی اور اگر اس دوران پیر آبادکی لیڈی ایس ایچ اوشرافت خان نے یہ کوشش بھی کی تو نمازیوں نے خاتون افسر کی عینک بھی توڑ دی‘ اس کی وردی بھی کھینچ لی اور مسجد کی دہلیز پراسے دھکے بھی دیے‘ خاتون ایس ایچ او نے ایکشن لیا تو وزیراعظم کے حکم پر قانون توڑنے اور لیڈی ایس ایچ او کے ساتھ بدتمیزی کرنے والوں کو رہا کر دیا گیا‘ یہ ہیں ہم اور ہماری ریاست اور ہماری حکومت۔

میں بہرحال اسے اسلام کی فتح اور پاکستانی ایمان کی کام یابی سمجھتا ہوں‘ ہم اسلامی دنیا بلکہ پوری دنیا میں لیڈ لے رہے ہیں‘ ہم نے ثابت کر دیا ایمان اگر پختہ ہو تو مرد مومن کورونا کے درمیان بھی باجماعت نماز ادا کرتا ہے اور کورونا اسے چھونے تک کی جسارت نہیں کرتا‘ یہ ہمارے ایمان کی مضبوطی ہے لیکن عجیب بات ہے اتنے ایمان اور اتنی پختگی کے باوجود ہم دنیاکے 117ملکوں میں ایمان داری میں79نمبر پر آتے ہیں‘کورونا کے ہاتھوں تباہ ہونے والے دنیا جہان کے کافر ملک ہم سے زیادہ ایمان دار ہیں۔

ہم ادویات اور خوراک میں ملاوٹ میں دنیا کے دس بدترین ملکوں میں شمار ہوتے ہیں‘ہم فضائی آلودگی کے شکار ملکوں میں دنیا میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں‘ ہم غربت‘ جہالت اور بیماری میں بھی بدترین ملکوں میں ہیں اور ہم صفائی‘ تعلیم اور انصاف میں بھی پست ترین درجوں پر فائز ہیں‘ مجھے سمجھ نہیں آتی ہمارا ایمان یہاں آ کر کیوں سہم جاتا ہے‘ یہ برائی‘ جرم‘ بداخلاقی‘ ملاوٹ‘ جھوٹ اور گندگی کا مقابلہ کیوں نہیں کر پاتا۔

ہمارے پیش امام‘ ہمارے خطیب‘ ہمارے مبلغ اور ہمارے علماء کورونا کو ڈرا لیتے ہیں‘ یہ اسے مسجدوں سے بھگا دیتے ہیں لیکن یہ آج تک ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ ظلم‘ زیادتی اور جرم کو کیوں نہیں روک سکے‘ کافر ملک ہم سے ان شعبوں میں کیوں آگے ہیں‘ ہم کیوں آج بھی مسجدوں میں بیٹھ کر یورپ اور امریکا سے کورونا کی ویکسین طلوع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاہم میں اپنے ان باطل خیالات پر اپنے علماء کرام سے معافی چاہتا ہوں‘ میں انھیں مبارک باد بھی پیش کرتا ہوں ہم نے ثابت کر دیا ہم پوری اسلامی دنیا سے بہتر مسلمان ہیں‘ ہم چیمپیئن ہیں‘ ہم ونر ہیں۔

The post ہم دنیا کے بہترین مسلمان ہیں appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34WJ7gM

’’آغوش اور قرضِ حسن‘‘

اگرچہ پاکستانی قوم عمومی طور پر خیرات کے معاملات میں پیش پیش رہتی ہے مگر رمضان کا مہینہ اس حوالے سے پہلے نمبر پر آتا ہے کہ عام طور پر لوگ اپنی زکوٰۃ اس کے اِردگرد نکالتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ رفاہی کام کرنے والی تنظیمیں اپنے فنڈریزنگ کے زیادہ تر پروگرام انھی دنوں میں رکھتی ہیں۔

گزشتہ برسوں میں مجھے پاکستان کے چند انتہائی نیک نام اداروں کے ساتھ اس نوع کے پروگراموں میں ملک کے اندر اور باہر شرکت کا موقع ملا ہے کہ اس بہانے تزکیہ نفس کا کچھ سلسلہ بھی بن جاتا ہے، ان اداروں میں زیادہ نمایاں نام الخدمت فائونڈیشن، اخوت ، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ، سندس فائونڈیشن ، رائزنگ سن، سائٹ فائونڈیشن، فائونٹین  ہائوس اور انڈس اسپتال کے ہیں، بلاشبہ ان کے علاوہ بھی بہت سے ادارے اور این جی اوز بہت اچھا کام کر رہی ہیں اور اُن کی کریڈیبلٹی بھی کسی طرح مندرجہ بالا اِداروں سے کم نہیں مگر میں اپنی بات کو اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کی حد تک محدود رکھنا چاہتا ہوں کہ غائبانہ گواہی اور عینی شہادت میں بہت باریک ہی سہی کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے۔

اس بار کورونا کی وبا کی وجہ سے جہاں زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے وہاں یہ ادارے بھی بہت خطرناک مراحل سے گزر رہے ہیں کہ ایک طرف کورونا سے متعلق امدادی کاموںکے بھاری بوجھ کی وجہ سے ان کے ریزرو فنڈ بُری طرح سے متاثر ہوئے ہیں اور دوسری طرف وہ بوجوہ کوئی ایسا فنڈ ریزنگ ایونٹ بھی منعقد نہیں کر پارہے جس سے اُن کے آیندہ برس کے اخراجات کا انتظام ہوسکے بالخصوص وہ ادارے جن کے کچھ پروگرام مستقل بنیادوں پر چل رہے تھے، زیادہ مسائل ان اداروں کو درپیش ہیں جن کا تعلق یتیم بچوں کی دیکھ بھال، اُن کی تعلیم و تربیت یا جسمانی یا ذہنی طور پر معذور اورخون کی بیماریوں بالخصوص تھیلیسیمیا کے شکار بچوں سے ہے۔

میری معلومات کے مطابق خون یا فنڈز کی متوقع کمی کے باعث ان بچوں کا مستقبل شدیدخطرے میں ہے جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں الخدمت فائونڈیشن دیگر بہت سے رفاہی کاموں کے علاوہ ’’آغوش‘‘ کے نام سے بہت سے ایسے ادارے بھی چلا رہی ہے جہاں ہزاروں یتیم بچے نہ صرف رہائش پذیر ہیں بلکہ بے شمار یتیم بچے ایسے بھی ہیں جن کی اُن کے گھروں پر مدد کی جارہی ہے، روایتی یتیم خانوں کے برعکس ’’آغوش‘‘ میں بچوں کو جس طرح سے رکھا اور پڑھایا جاتا ہے اور اُن کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جاتا ہے بہت سے غریب اور نچلے متوسط طبقوں کے بچوں کو ایسی سہولیات اُن کے گھروں میں بھی نصیب نہیں ہوتیں خاص طور پر مری کے نواح میں بننے والا ’’آغوش‘‘ تو اپنے ماحول، وسعت، عمارات اور بلند معیار تعلیم کی وجہ سے ایک ایسی روشن مثال ہے جو امیر، ترقی یافتہ اور باوسائل معاشروں میں بھی کم کم نظر آتی ہے، ظاہر ہے یہ سب کچھ بہت زیادہ مالی اخراجات کے بغیر ممکن نہیں کہ ان بچوں کی تمام تر ذمے داری اسی فنڈز کی مددسے پوری کی جاتی ہے جواہلِ وطن سارا سال اور بالخصوص رمضان کے مہینے میں فراہم کرتے ہیں۔

ان یتیم بچوں کے ساتھ ساتھ بچوں سے متعلق دو ایسے شعبے بھی ہیں جن کی طرف عام طور پر دھیان نہیں جاتا، ان میں سے ایک کا تعلق ان کی جسمانی ا ور دوسرے کا ایسی ذہنی صحت سے ہے جس کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل اور مسلسل مسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔ میری مراد تھیلیسیمیا اور خون کے دیگر امراض میں مبتلا بچوں اور خصوصی بچوں سے ہے جس کے لیے یوں تو بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں مگر اس ضمن میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے سندس فائونڈیشن اور خصوصی بچوں کی دیکھ بھال کے ضمن میں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی خدمات بہت زیادہ نمایاں ہیں ۔

سندس فائونڈیشن ا ور تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی بات کریں تو سب سے پہلے ذہن منو بھائی مرحوم کی طرف جاتا ہے جنہوں نے ان بچوں کے لیے خون کی فراہمی کے مسئلے کو اس محبت، محنت، خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ اُجاگر کیا ہے کہ اب خون کا عطیہ دینا نوجوان نسل میں ایک ٹرینڈ کی شکل اختیار کر چکاہے۔

مجھے یاد ہے پنجاب کی موجودہ وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے میری اولین ملاقات بھی انھی بچوں کے حوالے سے ہوئی تھی، ا سی طرح غزالی ایجوکیشن کے دوست دور دراز کے گائوں کے اَن پڑھ اور غریب خاندانوں میں موجود ذہنی اور جسمانی معذوری کے شکار جن بچوں کی مدد اور خدمت اپنے اسکولوں کے ذریعے کر رہے ہیں، اس کی تحسین اور تقلید بھی واجب ہے کہ ایسے بچوں کے لیے تو بڑے شہروں میں بھی بہت کم ادارے کام کر رہے ہیں، یہ سب بچے کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے لاک ڈائون اور لاک ڈائون کے باعث سامنے آنے والے مسائل کے باعث آج کل سخت مشکل میں ہیں، یوں تو انسانیت کی خدمت کرنے والے چھوٹے بڑے تمام داروں کو بھی آپ کے تعاون اور مالی مدد کی ضرورت ہے مگر یہ یتیم ، بیمار اور معذور بچے سب سے زیادہ اور فوری توجہ کے مستحق اور حقدار ہیں۔

ڈاکٹر امجد ثاقب کا نام اب وطنِ عزیز تو کیا بین الاقوامی سطح پر بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ کچھ ایسے غیر معمولی اور شاندار شخص کی موجودگی کسی بھی معاشرے کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے صرف بیس سال کے کم عرصے میں بلا سود قرضوں مواخات ، تعلیم ا ور اب قرض حسنہ کی اسکیم کے حوالے سے جو کچھ کر دکھایا ہے وہ کسی بہت بڑے ادارے کے بس کی بات بھی نہیں تھی۔ میں انھیں گزشتہ تقریباً تیس برس سے ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں اُن کے ساتھ سفر بھی کیے ہیں اُن کا کام دیکھا ہے اور اُن کی باتیں بھی سنی ہیں میں بہت اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ بیک وقت ایسا نیک نیت ، باعمل ، متحرک اور بے مثال تخلیقی خیالات اور صلاحیتوں کا حامل شخص کم از کم اس وقت ہمارے درمیان ڈاکٹر امجد ثاقب کے علاوہ اگر کوئی اور ہے تو کم از کم مجھے اس کا علم نہیں اور مجھے فخر ہے کہ وہ میرے دوستوں میں سے ہیں۔

قرض حسنہ جسے قرض حسنہ بھی کہتے ہیں، ایک ایسا خوب صورت عمل ہے جس کی برکات کا شمار بھی مشکل ہے لیکن اس کے بارے میں کوئی اور بات کرنے سے قبل میں مشہور گلوکار امانت علی خاں مرحوم سے منسوب ایک دلچسپ جملے کا ذکر ضرور کرنا چاہتا ہوں کہ کسی لفظ کی صَوت کے ساتھ ایسا خوب صورت کھیل کسی نے کم کم ہی کھیلا ہوگا جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں قرضِ حسنہ اس نیت پر لیا دیا جاتا ہے کہ استطاعت کی صورت میں یہ واپس کر دیا جائے گا اور اگر کوئی اسے واپس نہ کرے یا نہ کر سکے تو اُسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ امانت خان سے پوچھا گیا کہ قرضِ حسنہ کسے کہتے ہیں؟ تو اُن کا جواب تھا ’’یہ وہ قرض ہوتا ہے جسے واپس مانگیں تو لینے والا آگے سے ہنس کر دکھا دے‘‘۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں بہت سے لوگ مجبوری کی حالت میں بھی زکوٰۃ کی رقم لیناپسند نہیں کرتے اور کچھ کے لیے یہ ویسے بھی ممنوع ہے مگر کورونا کے اس عذاب کے بے شمار سفید پوش لوگوں کو ’’مفلس‘‘ کے خانے میں ڈال دیا ہے، ایسے میں اُن کی خاموش ، باوقار اور ضروری مدد کے لیے قرضِ حسنہ کی اسکیم کے فروغ کا آئیڈیا بہت ہی بروقت اور زبردست ہے۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ ڈاکٹر امجد ثاقب کے پیش کردہ دیگر آئیڈیاز کی طرح اس کو بھی بھرپور پذیرائی ملے گی اور ہم مل جل کر اپنے بے شمارسفید پوش اور غیور احباب کا ہاتھ بٹا سکیں گے ۔

کورونا کا کوئی باقاعدہ اور مستقل علاج تو انشاء اﷲ جلد یا بدیر نکل ہی آئے گا مگر ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم سائنس دانوں کو اُن کا کام کرنے دیں اور خود اپنے حصے کے کام کی طرف توجہ دیں اور وہ کام آپ کے سامنے ہے، ضرورت صرف ہم سب کے متوجہ اور متحرک ہونے کی ہے۔

The post ’’آغوش اور قرضِ حسن‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2VUjJUI