Thursday, 2 April 2020

کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کو کرپشن کی آلودگی سے بچانے کیلیے چند گزارشات

جب سے محترم عمران خان صاحب اقتدار میں آئے ہیں، آپ نئے پاکستان کی تعمیر کےلیے جد و جہد کررہے ہیں، کیونکہ ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ مار کی بدولت پاکستان کے اندرونی اور بیرونی قرضے تشویش ناک حد تک بڑھ چکے تھے ۔

ادارے اربوں روپے کے خسارے پر چل رہے تھے ۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق روز بروز بڑھتا جا رہا تھا ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے بجٹ کا خسارہ ہر سال بڑھتا جارہا تھا۔ ماضی میں قومی خزانے کو جس بے دردی اور سنگدلی کے ساتھ لوٹا گیا اس کی داستان نیب کے ریکارڈ، عدالتوں کی فائلوں، میڈیا، اور اخبارات میں موجود ہیں۔ ماضی کی ناکام معاشی پالیسیوں کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ قرضوں پر سود ادا کرنے کےلیے بھی مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان ایٹمی قوت ہے مگر افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ اگر پاکستان کے ایک ہاتھ میں ایٹم بم ہے تو دوسرے ہاتھ میں کشکول ہے۔ جس کو کئی بار توڑنے کا وعدہ کیا گیا مگر کوئی حکمران آج تک کشکول کو ہمیشہ کےلیے توڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

گزشتہ بیس سال کے دوران پاکستان کی معاشی حالت انحطاط پذیر ہی رہی ہے۔ ماضی کی غلط معاشی پالیسیوں اور لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان آج تک معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکا۔ محترم عمران خان صاحب کے برسر اقتدار آنے کے بعد اہل وطن کو امید ہو چلی تھی کہ اب ہم ترقی کا وہ زینہ حاصل کرلیں گے، جس کا خواب دیکھتے دیکھتے آباؤ اجداد منوں مٹی تلے جا سوئے۔

مگر آج 20 ماہ بعد صورتحال یہ ہے کہ “وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں ۔”

مخلص اور ایماندار قیادت کے زیر سایہ بیس ماہ گزارنے کےبعد صورتحال بد سے بدتر کی بجائے بدترین ہوچکی ہے، غریب، غریب تر ہوچکا ہے، اشیائے ضرورت عوام الناس کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں، روپے کی بری طرح تنزلی کی وجہ سے بیرونی قرضوں میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے، ڈالر 166 روپے کے ساتھ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت غربت کے خاتمے کےلیے خان صاحب کی خواہش کے مطابق چائنہ ماڈل یا دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی پیروی کرتی، مگر خان صاحب کے اردگر د موجود مفاد پرست ٹولے کی کوششوں کی بدولت ہم الٹی سمت گامزن ہیں، خان صاحب کے اردگرد موجود لوگ ان سے ایسےفیصلے کروارہے ہیں جن کی بدولت ان کی اور ان کے مصاحبین کی جیبیں بھری رہیں، اسکی تازہ ترین مثال “کورونا ریلیف ٹائیگر فورس ” کا قیام ہے، جس کے لیے دو سو ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

میری خان صاحب سے گزارش ہے کہ اگر واقعی وہ غریب عوام کی خدمت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور حق دار تک اس کا حق بغیر کرپشن کے پہنچانا چاہتے ہیں، تو جس طرح لنگر خانے پہلے سے موجود اداروں کے اشتراک سے کھولے گئے ایسے ہی حق دار تک اس کا حق پہنچانے کے لیے اور غریبوں کے حق کو امیروں کی جیبوں تک پہنچنے سے بچانے کے لیے پہلے سے موجود اداروں (جن کی موجودہ حکومت ایک زمانے میں خود بھی معترف رہی ہے) سے کام لیاجا سکتا ہے۔ اگر بین الاقوامی دباو کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہے۔ تدریسی عمل موخر ہونے کی وجہ سے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ بھی آج کل فارغ ہیں، ان سے بھی کام لیاجا سکتا ہے۔

آخر میں انتہائی مودبانہ گزارش ہے کہ اگر اساتذہ، غیر سرکاری تنظیموں سے یہ کام لینا ممکن نہیں ہے تو بھی برائےکرم پی ٹی آئی کارکنان کے بجائےفوج جیسے معتبر ادرے سے لے لی جائے کیونکہ سیاسی ورکروں سے یہ خدمت لینے پر کرپشن، سیاسی انتقام، اور اقرباپروی کے نئے ریکارڈ قائم ہوں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

The post کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کو کرپشن کی آلودگی سے بچانے کیلیے چند گزارشات appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2R8u4e9
via IFTTT

انٹارکٹیکا پر 9 کروڑ سال پہلے گھنا بارانی جنگل ہونے کا انکشاف

برلن: سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ آج سے 9 کروڑ سال پہلے انٹارکٹیکا پر گھنا جنگل تھا جہاں بھرپور بارش ہوتی رہتی تھی۔ اسے ہم ایک طرح کا بارانی جنگل بھی سمجھ سکتے ہیں جس کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ آج سے کروڑوں سال پہلے انٹارکٹیکا اچھا خاصا گرم تھا۔

تحقیقی مجلّے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی، برطانیہ اور ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی اس مشترکہ ٹیم نے انٹارکٹیکا میں 30 میٹر گہرا لیکن پتلا سوراخ (بورہول) کرکے وہاں سے مٹی کے نمونے حاصل کیے۔

ان نمونوں کا تین سال تک بڑی احتیاط اور تفصیل سے خردبینی مشاہدہ کیا گیا جس کے بعد یہ بات حتمی طور پر طے ہوگئی کہ ان میں سے مٹی کے وہ نمونے جو خاصی گہرائی میں تھے اور اندازاً 9 کروڑ سال قدیم تھے، ان میں درختوں کی خردبینی جڑوں اور زردانوں (پولنز) کی باقیات موجود تھیں۔

واضح رہے کہ آج براعظم قطب جنوبی ’’انٹارکٹیکا‘‘ پر برف کی دبیز تہہ موجود ہے جس کی موٹائی 2 کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے، اس لیے ماہرین کو پہلے اس برف میں سوراخ کرنا پڑا جس کے بعد مزید 30 میٹر گہرائی میں خصوصی آلات کے ذریعے کھدائی کی گئی اور مٹی کے نمونے حاصل کیے گئے۔

جڑوں کی گنجانی اور زردانوں کی تعداد کا مزید باریک بینی سے تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین نے اندازہ لگایا کہ یہ درخت ہمارے موجودہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گھنے رہے ہوں گے جبکہ آج سے 9 کروڑ سال قبل یہاں بارش بھی خوب برستی ہوگی۔

دیگر براعظموں کے برعکس، انٹارکٹیکا کی ٹیکٹونک پلیٹ پچھلے کروڑوں سال سے اپنے موجودہ مقام ہی پر ہے۔ یعنی 9 کروڑ سال پہلے وہاں پر آج کی طرح چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوا کرتی تھی۔ ہر سال رات والے چھ مہینوں میں سے 4 مہینے ایسے بھی گزرتے تھے جب وہاں بہت تاریکی رہتی تھی؛ اور شاید ٹھنڈک بھی بہت ہوتی ہوگی۔

ان تمام کیفیات کی موجودگی میں اتنا گھنا جنگل اپنا وجود کیسے برقرار رکھتا ہوگا؟ یہ ایک اہم سوال تھا۔

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کےلیے بھی ماہرین نے اسی کروڑوں سال قدیم مٹی کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ تب انٹارکٹیکا کا اوسط درجہ حرارت آج کے مقابلے میں پورے 12 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ علاوہ ازیں، کرہ ہوائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار (جو آج کل 412 حصے فی دس لاکھ یعنی 412 پی پی ایم ہے) اس زمانے میں 1120 پی پی ایم سے 1680 پی پی ایم کے درمیان تھی۔

قبل ازیں ماہرین کا خیال تھا کہ آج سے 9 کروڑ سال پہلے کے زمانے میں کرہ ہوائی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح 1000 پی پی ایم کے قریب رہی ہوگی۔

ہزاروں میٹر موٹی برف کے نیچے دبی ہوئی مٹی تک پہنچنا اور پھر اس کی گہرائی میں برما کاری کرکے مٹی کے نمونے حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہرین کی کوئی اور ٹیم بھی اس دریافت کی تصدیق کرے تاکہ یہ ثبوت بھی اپنی سند کو پہنچ سکیں۔

The post انٹارکٹیکا پر 9 کروڑ سال پہلے گھنا بارانی جنگل ہونے کا انکشاف appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/39BQ8EA
via IFTTT

گلابی آنکھیں بھی کورونا وائرس کی علامت ہوسکتی ہیں، چینی ماہرین

بیجنگ: چینی ماہرینِ امراضِ چشم نے ناول کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 38 افراد کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ ان میں سے 12 کی آنکھیں گلابی تھیں جبکہ ان کے آنسوؤں میں بھی کورونا وائرس موجود تھا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنکھوں کا کسی ظاہری وجہ کے بغیر اچانک گلابی ہوجانا بھی کورونا وائرس کی بیماری ’’کووِڈ 19‘‘ میں مبتلا ہونے کی ایک ممکنہ علامت ہوسکتی ہے، بشرطیکہ اس مرض کی دیگر علامات بھی موجود ہوں۔

واضح رہے کہ آنکھیں گلابی ہوجانے کی کیفیت کو میڈیکل سائنس کی زبان میں ’’کنجکٹیوائٹس‘‘ (conjunctivitis) کہا جاتا ہے جبکہ اس کا عوامی نام ’’آشوبِ چشم‘‘ ہے؛ اور یہ پاکستان میں آنکھوں کی ایک عام بیماری ہے۔

اسی لیے ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر صرف آشوبِ چشم ہو لیکن نزلہ، زکام اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات موجود نہ ہوں تو قوی امکان ہے کہ اس کی وجہ ناول کورونا وائرس نہیں ہوگا۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’جاما آپتھیلمولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس تحقیق میں جن 38 مریضوں کا مطالعہ کیا گیا، وہ سب کے سب چینی صوبے ’’ہوبے‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، ناول کورونا وائرس جہاں نظامِ تنفس پر حملہ آور ہوتا ہے، وہیں یہ آنکھ کی پتلی پر موجود شفاف حفاظتی تہہ ’’کنجنکٹیوا‘‘ (conjunctiva) کو بھی متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے آنکھ کی پتلی کا رنگ بدل کر گلابی ہوجاتا ہے۔

تحقیق کاروں نے کہا کہ کورونا وائرس کی فوری اور مؤثر تشخیص میں بے وجہ گلابی آنکھوں کو بھی بطور علامت شامل کرلیا جائے تو اس سے کووِڈ 19 کی بروقت تشخیص کے ساتھ ساتھ مریض کی مناسب دیکھ بھال میں بھی خاصی مدد ملے گی۔

علاوہ ازیں، اس تحقیق کی روشنی میں آنکھوں کو ہاتھ لگانے اور رگڑنے میں مزید احتیاط کا مشورہ بھی دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ وائرس ممکنہ طور پر آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں سے بھی پھیل سکتا ہے۔

The post گلابی آنکھیں بھی کورونا وائرس کی علامت ہوسکتی ہیں، چینی ماہرین appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dT8G6i
via IFTTT

دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ، وزن صرف دو گرام

کیوبا: بی ہمنگ برڈ ایک خوبصورت عجوبہ پرندہ ہے جس کا وزن دو گرام سے کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ اس پرندے کو دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ قرار دیا گیا ہے۔

یہ شہد کی مکھی سے کچھ بڑا ہوتا ہے اور اسی بنا پر اسے بی ہمنگ برڈ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے ایک انڈے کی جسامت کافی کے بیج کے برابر ہوتی ہے اور یہ صرف کیوبا میں ہی پایا جاتا ہے۔

اس کی غذا پھولوں کا رس اور چھوٹے کیڑے ہیں اور پرواز کے دوران یہ پرندہ اڑتے ہوئے کیڑے کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی مختصرین ترین جسامت کی وجہ ایک کیفیت ہے جسے ’جزیرے کا بونا پن‘ یا آئی لینڈ ڈوارفزم کہا جاتا ہے۔ ارتقائی لحاظ سے کسی جزیرے پر موجود جانوروں کو غذا اور وسائل میں کمی کا سامنا ہوتا ہے اور لاکھوں برس میں وہ دیگر انواع کے مقابلے میں وہ دھیرے دھیرے چھوٹے ہوتے جاتے ہیں۔ مکمل طور پر فنا ہونے سے بچنے کا یہ راستہ کئی جانوروں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

کیوبا کے جزائر پر بی ہمنگ برڈ کے ساتھ دوگنی جسامت کا ہمنگ برڈ بھی پایا جاتا ہے۔ اسی طرح کئی جزائر پر بعض چھوٹے اور کچھ بڑے ہمنگ برڈ ہوتے ہیں لیکن بی ہمنگ برڈ ان میں سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔

کیوبا کے جزائر پر طرح طرح کے پودے اس کی بقا کی وجہ ہیں جہاں ان گنت اقسام کے کیڑے موجود ہیں اور پھولوں کا رس وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اسی بنا پر یہ خوراک کی کمی کا شکار نہیں ہوتا۔ حیرت انگیز طور پر اس کے چھوٹے اعضا بہت زیادہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ اس میں استحالہ (میٹابولک) کی شرح اور جسمانی حرارت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اسی بنا پر یہ 25 سے 30 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر پرواز کرسکتا ہے۔ اسے زندہ رہنے کے لیے بھرپور غذا کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک دن میں 1500 پھولوں کا رس درکار ہوتا ہے۔

دن بھر لاتعداد مچھر کھانے اور پھولوں کا عرق پینے کے بعد بھی رات کے وقت یہ پرندہ اپنی جسمانی حرارت برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ اس کے لیے وہ ایک خاص قسم کی سرما خوابی جیسی کیفیت ’ٹورپور‘ میں چلاجاتا ہے تاکہ توانائی کم خرچ ہو اور جسمانی قوت منتشر نہ ہو۔

بی ہمنگ برڈ کا نر خوبصورت لیکن جسامت میں چھوٹا ہوتا ہے جبکہ مادہ بھدی اور جسامت میں تھوڑی بڑی ہوتی ہے۔ اس کا گھونسلہ گالف کی ایک گیند سے بڑا نہیں ہوتا۔ اپنے شوخ پروں کی بنا پر یہ بڑے پرندوں، مکڑیوں اور دیگر جانوروں کا آسانی سے نوالہ بن جاتا ہے۔

بی ہمنگ برڈ کی زیادہ سے زیادہ زندگی سات سال نوٹ کی گئی ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس کی بقا کو شدید خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔

The post دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ، وزن صرف دو گرام appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bNWd29
via IFTTT

آج کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

گزشتہ ہونے والے نقصان کی تلافی بہت حد تک ہو سکتی ہے ہم آپ کو یہ مشورہ دیں گے کہ حالات کی درستگی کے بعد بھی اپنے دوستوں پر اندھا اعتماد ہرگز نہ کریں۔

ثور:
22 اپریل تا 20 مئی

اگر آپ مشترکہ کاروبار کرتے ہیں تو پھر شریک کار کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی کوشش کیجئے ساری ذمہ داری شریک کار پر ہی ڈالے رکھنا مناسب نہیں ہو سکتا۔

جوزا:
21 مئی تا 21جون

کاروباری سلسلے میں ڈٹ کر محنت کیجئے آپ کی جدوجہد رنگ لا سکتی ہے اور آپ نہ صرف اپنے موجودہ کاروبار کو مزید وسعت دے سکیں گے بلکہ کافی آمدنی بھی اکٹھی کر سکیں گے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو تھوڑے عرصے کے لئے پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہ پریشانیاں کسی بڑے نقصان کا باعث نہ بن سکیں گی۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

نزدیکی سفر ضرور کریں نتائج توقع کے مطابق نکل سکتے ہیں، افسران سے تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، کسی بااثر شخصیت کی مہربانی کے سبب آپ بہت کچھ حاصل کر سکیں گے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

گھریلو حالات قدرے تسلی بخش رہیں گے لیکن اب آپ ہر بات اپنی ہی منوانے والی عادت ترک کر دیجئے، اپنی شریک زندگی کو بھی رائے اور فیصلے کا اختیار دے دیجئے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ کے لئے لازم ہے کہ اعتدال پسندی کو اپنائیں، اگر خوشگوار زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کریں۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

آپ اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں، آپ کا رویہ چھوٹوں کے ساتھ بہت ہی غلط ہے یہ نہ بھولئے کہ آج کے چھوٹے کل کے بڑے ہوں گے اس وقت آپ کا مقام کیا ہو گا۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

خود کو بدلنے کی کوشش کیجئے، آج کل کے اس عجیب و غریب دور میں صرف سیاسی اصولوں کو اپنا کر ہی زندگی اطمینان سے گزاری جا سکتی ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

اگر آپ ملازمت کرتے ہیں تو پھر اپنے مخالفین کی جانب سے ہوشیار رہیں کوئی خفیہ دشمن خطرناک قسم کی سازش کر سکتا ہے جس کا انتہائی برا اثر ملازمت پر پڑ سکتا ہے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

اعلیٰ صلاحیتوں کے ذریعے جو مقام گزشتہ آپ نے حاصل کیا تھا وہ آپ اپنے مخالف رشتہ داروں کی وجہ سے کھو سکتے ہیں۔ شریک حیات کے ساتھ بھی اپنا سلوک بہتر رکھیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

دوستوں سے کسی بھلائی کی توقع نہ رکھیں خاص طور پر اپنے گھر میں کسی کو نہ آنے دیں ورنہ کوئی دوست آستین کا سانپ بن سکتا ہے، دماغ پر فضول قسم کے خیالات کا غلبہ ہو سکتا ہے۔

The post آج کا دن کیسا رہے گا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2wECHGy
via IFTTT

تلاش حق…   (دوسری قسط)

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا کہ ’’ ان نیک لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اے سلمان! یہاں جو قوم بستی ہے وہ اہل دین میں شامل ہے اور ہمیں یقین ہے کہ آپ یہاں وہ مناظر دیکھ سکیں گے جن کی جستجو میں آپ اپنا دیس چھوڑکر ہمارے ساتھ چلے آئے، لہٰذا اب آپ یہیں قیام فرمائیے اور ہمیں رخصت کی اجازت دیجیے، اللہ کی قسم ! آپ ہرگز مایوس نہ ہوں گے‘‘مگر میں نے جواباً ان ہی کے ساتھ رہنے کی تکرارکی اور انھیںبتا دیا کہ ’’میں کسی حال میں بھی آپ لوگوں سے جدا نہیں ہونا چاہتا،آپ جہاں جارہے ہیں مجھے بھی اپنے ساتھ لے جائیے‘‘، انھوں نے بتایا کہ ہم پہاڑوں کی طرف جارہے ہیں، بہتر تو یہی تھا کہ آپ یہیں رک جاتے لیکن نہ جانے کیوں آپ کی ضد ہمیں حکم کی مانند لگتی ہے اور اسی بنا پر ہمارے لیے یہ نامناسب ہوگا کہ ہم آپ کو یہاں چھوڑکر چلے جائیںاور اس طرح میں ان کے ساتھ ہی چل پڑا ، ہماری اگلی صبح پہاڑوں میں ہوئی اور ہم ان ہی پہاڑوں کے درمیان چلتے چلتے ایک ایسی چٹان کے پاس جا پہنچے جہاں قطارسے مٹکے رکھے ہوئے تھے جن میں میٹھا پانی موجود تھا اور مٹکوں کے ساتھ ہی تازہ روٹیاں بھی رکھی ہوئی تھیں، یہ میرے لیے یہ انتہائی حیرت اور تجسس کی گھڑیاں تھیں لیکن میں کوئی سوال کیے بغیر ان لوگوں کے ساتھ وہیں بیٹھ گیا، جب سورج مکمل طور پر طلوع ہوگیا تو پہاڑ کے ایک جانب سے لوگوں کی آمدورفت شروع ہوگئی ، انھیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھاکہ جیسے روح ان کے بدن سے جدا کر دی گئی ہے، عجیب ڈرے سہمے سے لوگ تھے جو خاموشی سے آکر ہمارے پاس ہی بیٹھ گئے، کچھ لمحے توقف کے بعد انہو ں نے ہمیں مرحبا کہا اور میرے ساتھیو ں سے دریافت کیا کہ ’’ تم لوگ کہاں تھے؟‘‘ انھوں نے جواب دیا کہ ’’ ہم ان شہروں میں تھے جہاں اللہ کی نافرمانی کی جاتی ہے، اسے یاد نہیں کیا جاتا اور اس کے بندے اس کی عبادت کے بجائے بجھنے والی آگ کی پوجا کرتے ہیں، ہم نے انھیںاللہ کی طرف بلایا لیکن انھوں نے ہمیں وہاں سے نکال دیا‘‘اس دوران وہ میری جانب غور سے دیکھتے رہے اور پھر ان میں سے ایک نے پوچھ ہی لیا کہ ’’ یہ لڑکا کون ہے ؟ اسے پہلے توکبھی نہیں دیکھا؟‘‘انھوں نے مسکراتے ہوئے میرا تعارف کرایا اورکہنے لگے کہ ’’ اس کے دل میں خدائے واحد کے لیے فنا ہوجانے کی تڑپ ہے اور ہم نے اس میں سوائے خیرکے اورکچھ نہیں دیکھا‘‘

ابھی وہ یہی کچھ بتا رہے تھے کہ یکایک ایک دراز قد شخص غار سے نکلا اور سب کو سلام کرکے ہماری جانب چلا آیا، سب لوگوں نے اس کے گرد گھیرا ڈال دیا اور اس سے ہماری تعریف کرنے لگے، اس نے بھی میرے بارے میں دریافت کیا اور لوگوں کا جواب سن کر اللہ کی حمد و ثنا کرنے لگا، اس کے بعد اس نے ادب سے اللہ کے رسولو ںکا ذکر شروع کیا، پھر ان تکالیف کا بیان کیا جو اللہ کے رسولوں اور انبیا نے اپنی قوموں اور سرکشوں کے ہاتھوں سہیں اور اس کے بعد اس نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا خوب صورت تذکرہ کیا اور بتایا کہ ’’وہ بغیر باپ کے تشریف لائے، وہ مردوں کو زندہ، اندھوں کو بینا اورکوڑھیوں کو تندرست کردینے کی طاقت کے ساتھ بھیجے گئے، ان پر انجیل اتاری گئی اور ان کو تورات کا علم بھی دیا گیااور پھر جب اللہ نے چاہا انھیںاٹھالیا اور وہ دوبارہ تشریف لائیں گے‘‘ اس کے بعد وہ اٹھا اور اس نے کہا کہ جسے پانی پینا ہے پی لے اور جس نے روٹی کھانی ہے کھا لے، بس اپنے آپ کو بکھرنے اور تفرقے سے بچاؤ ، پھر میری طرف اشارہ کر کے کہنے لگا کہ ’’میںاس لڑکے کے بارے میں خیرکی وصیت کرتا ہوں اسے قبول کرلو‘‘ اور مجھ سے کہا کہ ’’اے لڑکے! یہی اللہ کا دین ہے اور اس کے سوا سب کفر ہے۔‘‘

حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے اس سے گذارش کی کہ میں اب آپ کے ساتھ رہوں گا اور آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا‘‘ اس نے کہا کہ ’’ اے لڑکے! تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتے کیونکہ میں صرف اتوارکے دن غار سے باہر نکلتا ہوں، اس سے پہلے باہر نہیں آتا‘‘میں نے مضبوطی سے کہا کہ ’’میں بھی آپ کے ساتھ ہی غار میں ایک جگہ پڑا رہوں گا ، مجھے اپنے آپ سے الگ نہ کیجیے‘‘ اور اندر چلاگیا۔اس نے مجھے دیکھا اور کہنے لگا کہ ’’چلیے! اس طعام میں سے اتنا تو لے لیجیے جو آپ کو اگلے اتوار تک کافی رہے‘‘ چنانچہ میں نے ضرورت کے مطابق اشیاء لیں اور اس کے ساتھ ہی غار میں رہنے لگا۔میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے اس شخص کو سوتے دیکھا اور نا ہی کھاتے پیتے مگر جب دیکھا تو رکوع میں یا سجدے میں وہ ہر اتوار کو باہر آتا، جمع ہوئے افراد کو اللہ سے ڈرنے ، تفرقے سے بچنے اور عیسیٰ ابن مریم کو اللہ کا بندہ اور رسول ماننے کی نصیحت کرتااور پھر ان سے علیحدہ ہوجاتا۔

پھر ایک اتوار ایسا آیاکہ اس نے رب ذوالجلال کی حمدگوئی کے بعد اچانک ہی کہا کہ ’’ مجھے اجل نے آگھیرا ہے، موت لازمی ہے اور اب تم مجھے واپس نہیں لوٹا سکو گے، مجھے یہاں سے جانا ہوگا، اگر زندہ رہا تو واپس آجاؤں گا اور اگر مرگیا تو یاد رکھو کہ اللہ ہی کو حیات ہے لہٰذا اس لڑکے کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو اور یہاں سے روانہ ہوجاؤ‘‘سب لوگ گھبرا گئے مگر اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا اور اس نے اور ہم نے الگ الگ راہ لی ، ہم مسلسل چلتے رہے، رات ہوتی تو رک جاتے اور دن میں دوبارہ سفر شروع کردیتے، وہ اللہ کے ذکر اور نماز سے پل بھرکے لیے بھی غافل نہ ہوئے یہاں تک کہ ہم بیت المقدس جاپہنچے جس کے دروازے پر ٹانگوں سے معذور شخص فریادی تھا ، اس نے ہمیں دیکھتے ہی ہمارے رہنما سے کہا کہ ’’اے اللہ کے بندے!آپ میرا حال دیکھ رہے ہیں، مجھ پرکوئی چیز صدقہ کردیجیے‘‘مگر انھوں نے کوئی توجہ نہ دی اور مسجد میں داخل ہوکر نماز پڑھنے لگے۔

عبادت سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے مجھ سے کہا کہ ’’ اے سلمان! میں کئی راتوں سے سویا نہیں ہوں، نیند کا ذائقہ بھول ہی چکا ہوں، کچھ دیرکے لیے سونا چاہتا ہوں، تم بس اتنا کرنا کہ جب سایہ فلاں جگہ تک پہنچ جائے تو مجھے اٹھا دینا اورمیں نے دوران سفر جو باتیں تمہیں بتائی ہیں انھیںیاد رکھنا کہ ’’رب ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہے اور بے شک وہ جلد اپنا ایک رسول بھیجے گاجس کا نام احمد ہوگا اور وہ تہامہ(حجاز مقدس) میں ظاہر ہوں گے ، وہ صدقہ نہیں کھائیں گے مگر ہدیہ قبول فرمائیں گے اور ان کے کاندھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی، تمہیں معلوم ہے کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور شاید ان کو نہ پاسکوں لیکن اگر تم انھیںپالو تو ان ہی کی اتباع کرنا اور وہ جو فرمائیں اسی پر عمل کرنا‘‘ میں نے پوچھا کہ ’’اگر انھوں نے مجھے آپ کا دین چھوڑ دینے کا حکم دیا تب کیا کروں؟‘‘ پادری نے جواب دیا ’’ وہی کرنا جس کا وہ حکم دیں کیونکہ وہی سچ ہوگا، حق ان ہی کے پاس ہے اور وہ رحمن کی رضا کے ساتھ تشریف لائیں گے۔‘‘

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزید بیان کرتے ہیں کہ ’’ پھر میں نے انھیں کافی دیر تک سونے دیا اور جب وہ اٹھے تو سایہ اس جگہ سے گذرگیا تھا کہ جہاں پہنچنے کے بعدانھوں نے مجھے اٹھا دینے کے لیے کہا تھا، وہ گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ’’سلمان! وہ وعدہ اور ذمے داری کہاں ہے جو تو نے کیا اور اپنے کاندھوں پر لی؟‘‘میںنے کہاکہ ’’چونکہ آپ کئی دنوں کے جاگے ہوئے تھے اسی لیے میں نے یہی بہتر سمجھااور یہی پسند کیا کہ آپ نیند سے بھرپور فائدہ اٹھائیں‘‘انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور وہاں سے چل پڑے، دروازے پر وہی معذور شخص موجود تھا، اس نے دوبارہ التجا کی کہ ’’اے اللہ کے بندے!آپ داخل ہوئے تھے تو میں نے سوال کیاتھا پر آپ نے کچھ نہ دیا، اب باہر آئے ہیں تو کچھ دیتے جائیے‘‘عبادت گذار پادری نے ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے ،اس کے بعد وہ معذور کے قریب ہوا اور اس سے اس کا ہاتھ مانگا، ہاتھ تھامتے ہی اس نے کہا کہ ’’اللہ کے نام سے کھڑا ہوجا‘‘اور وہ کھڑا ہوگیا، اس طرح کہ جیسے کوئی بندھا ہوا کھل گیا ہو، اب اس میں کوئی عیب نہ تھا، انھوں نے جلد ہی اپنا ہاتھ اس سے چھڑایا اور ہمیں محوحیرت میں چھوڑ نہ جانے کہاں چل دیے…!

(جاری ہے)

The post تلاش حق…   (دوسری قسط) appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bYwtAn
via IFTTT

میرا لاکھوں کا نشہ توڑ دیا

بعد میں تو ہمارے گائوں کاپرائمری اسکول اچھا خاصا ترقی یافتہ بلکہ ترقی دادہ اورماڈرن ہوگیا کیوں کہ گائوں کے لوگوں نے تعلیم اورقومی محبت سے سرشار ہوکر قبرستان میں زمین دے دی اورحکومت نے اس پر پکے کمرے ڈال دیے ،فرش ہوگئے ،کمرے دروازے، کھڑکیاں ہوگئیں اورایک کی جگہ پانچ استاد ہوگئے جو سب کے سب ’کوالیفائیڈ‘ یعنی نقل سے پاس اوررشوت  سے ’’فائز‘‘شدہ تھے لیکن بڑی سہولت چھٹیوں کی ہوگئی۔

جس دن گائوں میں کبھی کبھی  قدرت اوراکثر ڈاکٹروں کے ہاتھوں کاشت کرنے کے قابل ہوجاتا اس دن اسکول میں چھٹی ہوجاتی کیوں کہ جنازگاہ بھی اسکول ہی تھا کیوں کہ ایک وزیر کی تختی اسکول پر ایک طرف لگی تھی اور جنازگاہ کی تختی دوسری طرف لگی تھی،سنگ بنیاد بدست جناب… نیچے فرش کے اندر جو لوگ رہائش پذیرتھے ان کو دونوں سہولتیں ایک ہی جگہ میسرتھیں۔

گائوں میں بوڑھوں اورڈاکٹروں کی کمی نہیں تھی اس لیے ہردوسرے تیسرے دن ایک چھٹی ہوجاتی تھی جس سے بچوں میں بزرگوں کا احترام بھی بڑھ گیا کیوں کہ وہ ان کو ’’چھٹی‘‘ کی نظرسے دیکھتے تھے ،بزرگوں کو دیکھ کر دورسے سلام کرتے اورویسے ہی خوشی کا اظہار کرتے جیسے چھٹی پر ہونا چاہیے۔ آپس میں یہ نہیں کہتے تھے کہ وہ فلاں جارہاہے بلکہ یہ کہتے وہ دیکھو چھٹی جارہی ہے ۔

ڈاکٹر امرود مردود کو توگائوں کے سارے بچے بہت پسند کرتے تھے اوراس کی مساعی جمیلہ کوسراہتے تھے۔

ہم پرانے اسکول کے پڑھے ہوئے اتنی بے تحاشا چھٹیاں دیکھ کر بہت کڑھتے تھے ،کاش ہمارے وقتوں میں بھی کوئی ’’بدست جناب‘‘ ہوتایا گائوں کے لوگوں کو خیال آجاتاکہ مردے تو نیچے رہائش پذیرہیں اوپر کی بیکارپڑی زمین کو عطیہ کردیں،جس اسکول میں ہم پڑھتے تھے وہ کرائے کے ایک کچے مکان میں تھا بلکہ مکان کی بھی اس پر صرف تختی لگی تھی ،اصل میں ایک ملک صاحب کا مویشی خانہ تھا جس میں جانوروں کے لیے پانی کا انتظام چھت سے کیاگیاتھاجو بارش میں تالاب ہوجاتی اور دوسری بارش تک کفایت کرتی تھی۔

ہم ہرقسم کی اتفاقی چھٹی سے محروم تھے ،ڈاکٹر امرود مردود کا وجودبھی نہیں تھا اس لیے بوڑھے بھی بہت تھے لیکن ابھی چھٹی نہیں بنے تھے،

ہمارے گھر کے قریب ایک شاہراہ عام پر ایک پل کاپشتہ تھا جس پر چاربوڑھے ہمیشہ بیٹھتے تھے جن میں ایک ہمارے دادابھی تھے ،چاروں ہی مدت دراز سے رنڈوے اورسڑک پر آنے جانے والے تانگوں کی گنتی سے دل بہلایاکرتے تھے وہ اپنی اپنی لاٹھیوں سے ٹھوڑیاں ٹکائے اونگھتے رہتے تھے لیکن کسی تانگے کی ٹک ٹک سن کر فوراً’’اسٹینڈ ٹو‘‘ ہوجاتے تھے کیوں کہ بازار اورمزاروں کے لیے آنے جانے والی خواتین ان ہی تانگوں میں ہوا کرتی تھیں،حالانکہ اس زمانے میں ستر پردہ اتنا سخت تھا کہ ہرکوچوان اپنے ساتھ دوبڑی بڑی چادریں مستقل رکھتاتھا جو تانگے میں خواتین کے بیٹھنے کے بعد آگے پیچھے تاننے کے کام آتی تھیں۔

ایک چادراگلی اورپچھلی سیٹ کے درمیان اور دوسری پیچھے پورے تانگے کے گرداگرد ۔یوں خواتین کی جھلک بھی نہیں دکھائی دیتی۔زیادہ سے زیادہ پیچھے ان کے جوتے نظرآتے لیکن رنڈوے بڈھوں کے لیے یہ بھی بہت، جوتوں سے وہ بہت دورتک اپنی دوربین نظروں سے دیکھ لیتے تھے اورپھر آپس میں ان پر تبادلہ خیالات یا تبادلہ فحاشیات اس وقت تک کرتے تھے جب تک دوسراتانگہ نمودار نہ ہوجاتا۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے ایک مرتبہ ان بوڑھوں میں سے ایک کابیٹا آیا اورغصے میں ان سے بولا۔تم چاروں ان تانگوں کے ’’چوہدری ‘‘ لگے ہوکیا؟ چوہدری تانگوں پر تعینات ایک سرکاری ملازم ہوتاتھا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج ہم یہ کیا فضولیات ہانکنے لگے ہیں تو آپ بالکل ٹھیک سوچ رہے ہیں لیکن ہم بھی غلط نہیں کیوں کہ آج کل ہماری حالت بھی ان بوڑھوں کی سی ہورہی ہے۔ سامنے نئی سڑک جس کا نام تبدیلی روڈ ہے سرکاری کوچوان اپنے اپنے تانگوںمیں خوبصورت بیانات اورمژدہ ہائے جان فزا کی خواتین بٹھائے آجارہے ہیں۔اس سڑک پراسی پل کے پشتے پربیٹھے بیٹھے ہمارے باپ دادابھی تانگے گنتے گنتے خود گزرگئے اور اب ہم بھی تقریباً گئے گزرے ہونے کے قریب اپنے دادا کی جگہ بیٹھے ان تانگوں پر نگاہیں جمائے بیٹھے ہیں لیکن ظالم کوچوان ؟

پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے

ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ کم بخت نے بیچ کی چادر ہٹائی ہوئی ہے،خود خوب فیض یاب ہورہاہے اورچاہے تو اگلی سیٹ پر اپنی پسند کی سواریاں بٹھا کر ان کو بھی لطف اندوزہونے کا موقع دے دیتاہے لیکن مجال ہے جو کنارے پل کے پشتے پر بیٹھے ہوئے ہم بڈھوں کو ایک جھلک بھی دیکھنے دے ان بیچاروں کا گزارہ اب بھی جوتوں کی نوکوں یا دھیمی آوازوں پر ہے اورصرف خیال وتصورمیں جیتے ہیں۔

غرض تصورشام وسحر میں جیتے ہیں

گرفت سایہ دیوار ودرمیں جیتے ہیں

ہربگولے میں نظرآتاہے تیرامحمل۔اوراب کے تو سناہے شہرمیں ایک نیامیلہ لگاہے جس کے لیے تانگے پر تانگے جا اورآرہے ہیں جو خوش خبریوں کی دلہنوں سے بھری ہوئی ہیں بلکہ کبھی کبھی تو تانگوں کی باراتیں بھی چڑھ جاتی ہے۔

سب کی باراتیں آئیں میری بھی تم لانا

دلہن بنا کے مجھے اپنے گھرلے جانا

لیکن اگر وہ ہمیں تانگہ بھی دیکھنے نہ دیں اوراس پل کے پشتے سے بھی اٹھادیں تو ہم ان کا کیا بگاڑ سکتے ہیں البتہ وہ ہمارا سب کچھ بگاڑ سکتے ہیں یہاں سے اٹھا کر اورنظاروں سے محروم کرکے ۔

اب ہم ہیں اور ماتم یک شہرآرزو

توڑا جو تونے آئینہ تمثال دارتھا

ایک پرانا قصہ یاد آ رہاہے اوراب ہمارے پاس پرانے قصوں اورتانگوں کے سوا بچا ہی کیا ہے ،قصہ خوانی بازار کے نکڑ پر ایک افیونی دودھ فروش سے دودھ لے رہا تھا ،شیرفروش نے پیالہ بھر دیا، تو کسی طرف سے دھکا لگا اورپیالہ دودھ سمیت گرکر چکنا چورہوگیا، پرانے وقتوں کا ’’ان ٹیک‘‘ پیالہ تھا،شیرفروش نے ہمددری جتاتے ہوئے کہا،ظالم نے بڑا قیمتی پیالہ توڑدیا۔۔ افیونی دکھ بھرے لہجے میں بولا،پیالہ سرکھائے میرا لاکھوں کا نشہ ظالم نے توڑدیا۔

The post میرا لاکھوں کا نشہ توڑ دیا appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2xK27mh
via IFTTT

کہانی فاصلوں اور قربتوں کی 

ایک زمانہ تھا کہ فاصلے مایوسی اور خوف کی علامت بن کر معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھے۔ ادبی کہانیاں اور فلمیں بھی عام طور پر انھی موضوعات پر تماش بینوں کو کچھ دیر کے لیے سکون فراہم کرتی تھیں۔

تقسیم ہند سے قبل جب پہلی مرتبہ اردو زبان میں بولتی فلموں کا آغاز ہوا تو ان میں مرکزی کردار محبوب کا یہی ہوا کرتا تھا کہ وہ دور دراز کے سفر پر چلا جاتا تھا اور خیر خیریت کے ذرایع بھی بڑے محدود ہوا کرتے تھے۔ بیرون ملک جانا اور اہل خانہ سے بچھڑنا ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ مگر انسانی ترقی اور فاصلوں کو کم کرنے والے طیاروں کی پرواز نے جہاں جنگ عظیم دوم میں عوام پر بم برسائے وہاں دوسری جانب مہینوں کا فاصلہ دنیا بھر میں گھنٹوں میں تبدیل کردیا۔ جس سے انسانی تہذیب کو ایک ٹھہراؤ اور سکون نصیب ہوا۔

جنگ عظیم دوم کے اختتام اور جاپان پر ایٹمی حملے کی نوحہ خوانی کے بعد اقوام متحدہ کا قیام بھی دنیا کے لیے ایک حسین پیغام سے کم نہ تھا۔ دنیا بھر کے لیڈروں نے اس بھیانک جنگ کے بعد بہت سے نئے اسباق کے نتائج سے استفادہ کیا اور امن سے رہنے کی اہمیت کو اجاگر کیا مگر پھر بھی ترقی یافتہ ممالک کی خصوصاً سرمایہ دارانہ سوچ نے دنیا کو نظریاتی طور پر تقسیم کردیا اور اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کے ساتھ ساتھ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔

خصوصاً سرمایہ دارانہ سوچ نے غلبہ کے نت نئے طریقوں اور اجارہ داری اور نو آبادیاتی سوچ کو جنم دیا جس کی مزاحمت نے اس نظام کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی لہر پیدا کردی۔ نئے آزاد اور خودمختار ممالک اسی جنگ عظیم دوم کے بعد نمایاں نظر آتے ہیں۔

عوامی جمہوریہ چین اور بہت سے آزاد ممالک اسی عہد کے قرب و جوار کی علامتیں ہیں۔ قیام پاکستان اور آزاد بھارت بھی اسی عہد میں تاریخ کے صفحات پر نمایاں ہوئے۔ گویا نوآبادیاتی نظام کو اسی دور میں شکست ہوئی اور جو ممالک نوآبادیاں بنایا کرتے تھے وہ بھیس  بدل کر نوآبادیاں بنانے پر مجبور ہوئے اور اپنی سابق نو آبادیوں کے لیڈروں سے بعض خفیہ شرائط پر رسم و راہ رکھنے پر مجبور ہوئے۔اسی دور میں نظریاتی کشمکش کے سائنسی سوچ کے نئے دروازے بھی کھول دیے۔

ایک طرف نیٹو اور دوسری طرف معاہدہ وارسا کے لیڈران جس کی قیادت سوویت یونین کر رہا تھا نئی تہذیب کے رسم و رواج جنم لیتے رہے۔ اسی دوران کبھی کبھی ایسا بھی وقت آیا کہ لگا کہ دنیا ایٹمی تصادم کی لپیٹ میں آجائے گی مگر تدبر نے عالمی لیڈروں کو خصوصاً امریکا اور روس کے رہنماؤں کو انسانی ترقی یافتہ تہذیب کو مٹانے سے بچا لیا۔ مگر نظریاتی جنگ کی کشمکش اپنا سفر طے کرتی رہی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ایجادات نت نئے دور میں داخل ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ سفر کے طویل راستے وقت کو مختصر کرتے رہے۔

بیسویں صدی میں کمپیوٹر نے پوری دنیا کو ایک نئی دنیا کی شکل میں تبدیل کردیا۔ راستے اس قدر مختصر ہوگئے کہ پرانی تہذیب اور دوریاں ماضی کی کہانی بن کر رہ گئے۔ ان دوریوں کو مٹانے میں محض سیاستدانوں کا کردار نہیں ہے بلکہ دنیا کو تمدن سے آشنا کرنے کے لیے پیغمبران وقت کا بھی شیطانی کردار مٹانے میں بہت بڑا حصہ ہے۔حضرت موسیٰؑ سے مارکس تک انسانی تہذیب نکھرتی اور بکھرتی رہی ہے اس میں محض سائنسدانوں کا اور سرمایہ داروں کے علاوہ مفکروں اور شاعروں کا بھی بہت اہم رول ہے۔ جو انسانی تہذیب کو بد سے بہتر رخ پر لانے میں کارل مارکس کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جس کا اعتراف شاعر مشرق اور مفکران تہذیب مسلم کے رہنما علامہ اقبال کے بقول جو یہ فرماتے ہیں:

نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

اس مصرع کی مزید وضاحت اس وقت عملی طور پر دیکھنے میں آئی جب علامہ طاہر القادری نے اپنا پہلا احتجاج اسلام آباد میں عمران خان کے ساتھ شروع کیا تھا۔ جس میں انھوں نے پسماندہ طبقات کی بحالی کی للکار سنائی تھی جس میں روشنی، لاؤڈ اسپیکر اور اخبارات کا بھی نمایاں کردار یہ گواہی دے رہا تھا کہ تہذیب طوفان نوحؑ کے بعد اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ دنیا کے ایک کونے کی آواز دوسرے کونے تک سنی جاسکتی ہے۔ پھر اجتماعی تہذیب اور تمدن کا پہیہ انٹرنیٹ تک پہنچ گیا۔ پھر وہ وقت بھی آگیاجس میں احتجاج کے علاوہ احساسات اور جذبات کی آوازیں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک فجر کے وقت چہکتے اور رات کے وقت پوری رات بسیرا کرتے پرندوں کی ملی جلی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ گویا انسان تہذیب کے گھروندوں میں رہائش پذیر ہوگیا۔ اب محبوب کی آہ و زاریاں بھی بند ہوگئیں۔

جیا بے قرار ہے چھائی بہار ہے آجا میرے بالما تیرا انتظار ہے

سورج دیکھے چندا دیکھے سب دیکھیں ہم ترسیں

ایک ایسا دور تھا جب بقول غالب،اسی قریبی وقت کی ایک اور تصویر دیکھیے:

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

یہ فاصلوں کی ایک نئی شکل تھی مگر کمال کیا ایک سائنسی ایجاد نے کہ اب سات پردوں میں رہ کر بھی محبوب محو گفتگو ہے۔ تہذیب و تمدن کے ہزاروں پختہ اور بلند و بالا عمارتوں کے موجود ہونے کے باوجود بے پردہ کرنے میں انٹرنیٹ نے تو کمال ہی کر دکھایا۔ اب لفافوں کی تعداد بقول کتب فروشوں کے نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اور جب انیسویں صدی کے اوائل میں ڈاکخانوں میں رکھی ہوئی رقم نکلوانے میں تصدیق کے باوجود نشان انگوٹھا لگایا جاتا تھا تب کہیں گھنٹوں کے بعد اپنی مطلوبہ رقوم ملا کرتی تھیں۔ مگر اب نہ دستخط کی ضرورت ہے نہ نشان انگوٹھا۔ اب بینکوں سے رقوم مشینوں کے بٹنوں کو چھو کر فراہم ہو جاتی ہیں۔

ہر بڑھتے وقت گھٹتے فاصلوں کی تعریف کر رہے ہیں اور اب غالباً وہ وقت دور نہیں کہ ایسے ٹیلیفونک آلات سامنے آجائیں جن کو گھروں میں نصب کردیا جائے تو رقوم براہ راست گھروں ہی میں نکل سکتی ہوں۔ ایسی ایجادات سے بہت سوں کی پرانی نوکریاں ختم ہوکر نئے تمدن کی مشینیں، نئے روزگار فراہم کرنے لگیں گی۔ اکنامکس کے نظریات میں اتنی بڑی تبدیلیاں آسکتی ہیں کہ نصاب کا نصاب ہی بدل دیا جائے اور لوگ نئی  ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں جیسے آج کل پرندوں کی چہچہاہٹ والی اور تصور کی لکیروں والی چینی زبان کی تعلیم میں لوگ مصروف ہیں۔

گویا بند تہذیبیں اور دیوار چین کی رکاوٹیں محض عجائبات کی تعریف کے علاوہ کچھ اور نہ رہیں۔ مگر ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ اقوام میں چھپی ہوئی بالادستی کی خواہش قدم بہ قدم ساتھ چلتی رہی مہلک امراض کو نابود کرنے کے بعد اسی انسان نے ان بیماریوں کی روح کو جرثوموں کی شکل میں مقید کردیا مگر نابود نہ کیا کہ وہ دوسرے کو مغلوب کرکے ان پر حکومت کرے گا۔ ان کے دنیاوی وسائل کو خود استعمال کرے گا۔ ہم نے تاریخ کے صفحات پر یہ بھی لکھا دیکھا ہے کہ جب ریڈ انڈین اور سفید فام کے درمیان بالادستی کی جنگ جاری تھی تو غریب ریڈ انڈین کو سفید فام بالادستوں نے چیچک کے جراثیم والی پوشاکیں تحفے میں دیں۔

آج اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جراثیمی جنگ کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ مگر انسان کی ہوس ملک گیری کو کیا کہیے کہ فاصلے تو کم ہو گئے کثیر تعداد میں لوگوں کو آسودگی تو مل گئی مگر ہمیں کیا معلوم کہ سات پردوں میں چھپا تحقیقی مرکز کے اندر وائرس اور انسانی تہذیب کے دشمن اجزا حیاتیاتی شکل اور مشینی اشکال کی تیاری جاری ہے۔ جس کا عندیہ ماہ دسمبر کے اختتام پر مسٹر پوتن کا یہ بیان کہ امریکا نے کیمیائی جنگ کے ہتھیار ان کی مغربی سرحدوں کے قریب لا کھڑا کیے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان جہاں ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے وہ بظاہر بہت اہم اور انسانی آسودگی کا مظہر ہیں۔

وہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کی کاوشوں کے پیچھے فتور کا ایک بہت بڑا سمندر ہے جو دوسروں پر غلبہ پانے کے لیے کسی وقت بھی ان بند دروازوں کو توڑ سکتا ہے۔ اور ترقی یافتہ تہذیب بقول علامہ اقبال کے اپنے ہی خنجر سے خودکشی کرسکتی ہے۔ دوسرا خدشہ خود انسان کی اپنی تخلیق ہے جس میں غفلت کا پہلو پوشیدہ ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی ہی تجربہ گاہ کے بعض دروازوں کو بند کرنا بھول سکتا ہے یا بداحتیاطی ممکن ہے جس سے انسانی تہذیب کے تمام پہلو نابود ہو سکتے ہیں۔ فی الحال تو اس قسم کے تصوراتی پہلو جدید انگلش فلموں کا کردار ہیں۔ مگر یہ کہنا بعیدازقیاس نہیں کہ انسانی تہذیب خود موت کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اس میں دائیں اور بائیں بازو کا کوئی فریق سانس نہیں لے رہا ہوگا۔ موجودہ نوول کورونا وائرس اسی خدشے کا ایک نمونہ ہے۔

فی الحال روس اور امریکا دونوں ہی آلودگی میں غرق اس دنیا کو آلودگی سے نکالنے میں کوشاں ہیں اور مستقبل میں اقوام متحدہ کو نئے قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

The post کہانی فاصلوں اور قربتوں کی  appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3bPtcD0
via IFTTT

عمران خان ریلیف فنڈ اور برطانوی پاکستانی مسلمان

تقریباً ایک ہفتہ قبل وزیر اعظم جناب عمران خان نے کورونا وائرس کے حوالے سے پیدا ہونے والے نئے اور سنگین مسائل کے متنوع موضوعات پر اسلام آباد میں چند اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہُوئے جہاں حسبِ معمول ملک کی پتلی معاشی حالت کا ذکر کیا ، وہیں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے متاثرین کی دستگیری کے لیے ایک خصوصی ریلیف فنڈ قائم کررہے ہیں ۔

وزیر اعظم قوم سے اپنے تازہ خطاب میں اب اس فنڈ کا قیام بھی عمل میں لاچکے ہیں۔ انھوں نے کوروناوائرس آزمائش کے جاری لمحات میں قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر اس فنڈ میں عطیات دیں ۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ ہم سب اُن کی آواز پر لبیک کہیں گے لیکن ہم  یہ بھی اُمید رکھتے ہیں کہ خانصاحب خود ،اُن کی کابینہ کے ارکان اور آس پاس موجود انتہائی دولتمند افراد بھی ایثار سے کام لیتے ہُوئے اس فنڈ میں فوری طور پر نمایاں ترین حصہ ڈالیں گے۔

عمران خان کے عظیم دوست ترک صدر ، جناب طیب اردوان، نے بھی کورونا وائرس کے متاثرین ترک شہریوں کی امداد کے لیے ایک فنڈ قائم کیا ہے تو سب سے پہلے اپنی 7تنخواہیں اس فنڈ کو عطیہ کی ہیں ۔ اس کے بعد اُن کے وزراء نے بھی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں اس فنڈ میں دی ہیں۔ یہ انتہائی اعلیٰ مثال ہے۔ ہم سب پاکستانی پی ٹی آئی کی حکومت کے اعلیٰ وابستگان سے بھی ایسی ہی قابلِ فخر مثال قائم کیے جانے کی توقع رکھتے ہیں ۔

برطانیہ میں مقیم کئی پاکستانی خاصے خوشحال اور متمول ہیں۔ یہ برطانوی عوام اور خصوصاً برطانوی مسلمانوں کی بھی خدمت کررہے ہیں اور برطانوی حکومت سے بھی خوب تعاون کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر جس روز عمران خان نے مذکورہ فنڈ قائم کرنے کا ذکر کیا، اُسی روز برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی نژاد باکسر (عامر خان)کی طرف سے ایک خوش کن اعلان سامنے آیا ۔

عامر خان نے بیان دیا :’’ برطانیہ میں کورونا وائرس کے مریض بڑھ رہے ہیں ۔ اسپتالوں میں جگہ کم پڑ رہی ہے ؛ چنانچہ مَیں برطانیہ میں 60ہزار مربع فٹ پر کھڑی اپنی چار منزلہ ملکیتی عمارت برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز (NHS) کو دینے کے لیے تیار ہُوں تاکہ کورونا متاثرین کی طبّی مدد کی جا سکے ۔‘‘ اگرچہ ’’این ایچ ایس‘‘ نے ابھی یہ پیشکش قبول نہیں کی ہے لیکن سرکاری طور پر باکسر عامر خان کا بہت شکریہ ادا کیا ہے ۔ عامر خان باکسر نے کورونا وائرس کے پاکستانی متاثرین کی مدد کے لیے بھی مبینہ طور پر 4کروڑ روپے عطیہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ ایسے میں ہم بجا طور پر دیگر پاکستانی نژاد برطانوی مسلمانوں سے بھی توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کے فنڈ کو نظر انداز نہیں کریں گے ۔

برطانیہ میں بروئے کار دو مسلمان فلاحی اداروں کی طرف سے بھی اِسی ضمن میں حوصلہ افزا اعلانات سامنے آئے ہیں ۔ ان میں سے ایک ’’ مسلم ہینڈز ‘‘ کے نام سے معروف ہے اور دوسرا ’’ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے زیر عنوان خدمات انجام دے رہا ہے ۔ دونوں فلاحی اداروں کے سربراہان اور بانیان پاکستانی نژاد برطانوی مسلمان ہیں ۔ اوّل الذکر کے بانی سید لختِ حسنین اور ثانی الذکر کی اساس رکھنے والے عبد الرزاق ساجد ہیں۔

لخت حسنین صاحب نے بیرونِ ملک کے علاوہ پاکستان میں بھی تہی دستوں کی مالی فلاح اور مفت تعلیم پھیلانے کے میدان میں کئی ادارے قائم کررکھے ہیں جب کہ عبدالرزاق ساجد کا فلاحی ادارہ میانمار اور بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اب تک ہزاروں مستحق افراد کے لیے آنکھوں کی نئی روشنی کا پیغام بنا ہے ۔ ابھی حال ہی میں رزاق صاحب نے لندن میں بہت سے ڈونرز کی موجودگی میں یہ فخریہ اعلان کیا ہے کہ انھوں نے پاکستان میں ایک لاکھ غریب اور مستحق افراد کی آنکھوں کے کامیاب اور مفت آپریشن کرنے کا ٹارگٹ حاصل کر لیا ہے ۔ الحمد للہ ۔

’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ ‘‘ کے چیئرمین تو کاکسز بازار ( بنگلہ دیش ) کے مختلف کیمپوں میں بے یارومددگار پڑے روہنگیا مسلمانوں تک راشن پہنچانے کا آپریشن شروع بھی کر چکے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں اور والنٹیئرز کے ساتھ برطانیہ کے مختلف شہروں ( خصوصاً لندن میں) آن کال درخواست پر کھانے پینے کی اشیائے ضروریہ ضرورتمندوں تک مفت پہنچا رہے ہیں ۔

راقم نے ایک ویڈیو کلپ میں خود دیکھا ہے کہ عبدالرزاق ساجد کے خواتین و حضرات ساتھی خورونوش کے تھیلے مختلف لوگوں کے گھروں کی دہلیز پر رکھتے ہیں اور پھر دروازے پر دستک دے کر چند فٹ پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ گھر والے دروازہ کھولتے ہیں تو دہلیز پر رکھی انتہائی ضرورت کی چیزیں دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ کورونا وائرس کی قیامت میں گھری انسانیت کی خدمت بھی ہورہی ہے اور خاموشی سے دینِ اسلام کا پیغام بھی پہنچ رہا ہے ۔

عبدالرزاق ساجد نے مجھے بتایا کہ وہ لندن میں خاص طور پر اُن افراد تک خوراک کے تھیلے لے کر تیزی سے پہنچ رہے ہیں جو بے گھر اوربے روزگار ہیں،جو معذور بھی ہیں اور ضعیف العمر بھی۔ لاہور شہرمیں بھی ریلیف کے لیے اُن کے متعدد آپریشن شروع ہو چکے ہیں۔ وہ پکا پکایا کھانا بھی فراہم کررہے ہیں اور خشک راشن بھی ۔غزہ ( فلسطین) اور ترکی میں شامی مہاجرین کے کیمپوں میں بھی ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ‘‘کے کارکنان امداد پہنچانے میں سرگرم ہو چکے ہیں ۔

ہم اُمید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے قائم کردہ فنڈ میں تمام سمندر پار پاکستانی جوق در جوق حصہ لیں گے۔ وطنِ عزیز میں مگر اس فنڈ میں حصہ لینے والوں کی رفتار اور تعداد فی الحال سست اور کم ہے ۔ سستی اور نیم دِلی حکومت کی طرف سے بھی ہے ۔

’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے پروگرام’’ایکسپرٹس‘‘ میں شریک ایک سینئر تجزیہ کار نے بھی گزشتہ روز یہ بات کہی ہے کہ کورونا وائرس کے انسداد کے حوالے سے حکومت نیم دِلی سے کام کررہی ہے ۔ خان صاحب کے قائم کردہ فنڈ میں حصہ لیتے ہُوئے شائد لوگ بھی متردد ہیں ۔اس کی وجہ کہیں ماضی میں قائم کیے گئے ’’ قرض اتارو،ملک سنوارو‘‘ اور ’’ ڈیم کی تعمیر ‘‘ کے حوالے سے قائم کیے گئے فنڈز میں عوام کو پہنچنے والے پے بہ پے دھچکے اور صدمے تو نہیں ہیں؟ اس صدمے کا احساس شائد وزیر اعظم کے ذہن میں بھی موجود ہے۔ اِسی لیے انھوں نے یقین پیدا کرنے کے لیے یہ بھی کہا ہے کہ اس فنڈ کا صحیح استعمال بھی ہوگا اور بعد ازاں اس کا آڈٹ بھی کیا جائے گا۔اللہ کرے ہمارے عوام خانصاحب کے اس بیان پر یقین بھی کرلیں ۔

The post عمران خان ریلیف فنڈ اور برطانوی پاکستانی مسلمان appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2JMIA7z
via IFTTT

چین کی لازوال دوستی

کورونا وائرس کے حوالے سے پوری دنیا میں صورتحال بہت نازک ہوگئی ہے، روزانہ ہزاروں کورونا کے مریض جان سے جا رہے ہیں ہر طرف ایک خوف و دہشت کی فضا قائم ہے۔ دنیا کے ہزاروں معالج اپنی ساری مہارت لگا رہے ہیں لیکن اس موذی مرض کا علاج دریافت نہیں ہو پا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر طرف ایک مایوسی اور دہشت کی کیفیت موجود ہے۔

ہر شخص خوفزدہ ہے کہ کہیں وہ اس عذاب میں نہ گھر جائے اس قاتل مرض کی روک تھام کے لیے جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ احتیاط کی جائے اور احتیاط کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ حالانکہ احتیاط کے طور پر عبادت گاہیں تک بند کردی گئی ہیں ۔ امریکا دنیا کا ترقی یافتہ ملک ہے اقتصادی حوالے سے ہی نہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی امریکا کا شمار ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے لیکن صورتحال اس قدر دہشت ناک ہے کہ انسان دہل کر رہ جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں وبائی امراض آتے اور جاتے رہے ہیں۔ لیکن کورونا وائرس ایک ایسا مرض ہے جس کا ماضی میں ایسا دہشت ناک کردار نہیں رہا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ دنیا کے طبی ماہرین لاکھ کوششوں کے باوجود اس مرض کے خاتمے کی بات کو تو جانے دیں اس مرض سے ہونے والے نقصان تک کو کم نہ کرسکے۔ اس حوالے سے سب سے مایوس کن صورتحال یہ ہے کہ طبی ماہرین اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس کا علاج دریافت نہ کرسکے نہ یہ معلوم ہوسکا کہ اس مرض کے نقصانات اور وسعت پر قابو پانا ممکن ہے؟

لوگ اس بیماری میں کیڑے مکوڑوں کی طرح مارے جا رہے ہیں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس بلا سے نجات پانے کے لیے سخت احتیاط برتی جائے۔ احتیاط یقینا بعض وقت بیماریوں میں کمی کا باعث ہی نہیں بنتی بلکہ بیماریوں کے خاتمے کا سبب بھی بنتی ہے۔ دنیا بھر میں عبادت گاہوں کو تالے لگ گئے ہیں، مسجد نبوی بھی بند کردی گئی ہے اور طواف خانہ کعبہ بھی روک دیا گیا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس سال حج کے ہونے میں یقین نہیں رہا کیونکہ اس بیماری میں انسانوں کا ہجوم سے بڑا نقصان ہوتا ہے اور حج میں 20 لاکھ حاجیوں کی شرکت لازمی ہوتی ہے اس قدر بڑے ہجوم میں انسانی جانوں کے ضیاع کا اندازہ نہیں لگا یا جاسکتا۔

امریکا کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے لیکن اس بدقسمتی کو کیا کہیں کہ میڈیا میں یہ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ امریکا کورونا کے مرکزی سینٹر میں تو بدلنے نہیں جا رہا ہے۔ مغربی ملکوں میں پسماندہ ملکوں کے مقابلے میں صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لیکن اس صفائی کو کورونا میں کوئی اہمیت حاصل نہیں بس انسان کو ایک دوسرے سے دور رہنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ انسانوں کے درمیان کم ازکم چھ فٹ کا فاصلہ ضروری ہے جیلوں میں ان کی گنجائش سے پانچ چھ گنا زیادہ قیدی رہتے ہیں یوں جیل کورونا کا موزوں ترین حصہ ہے اسی خوف سے معمولی جرائم میں ملوث ہزاروں قیدیوں کو چھوڑا جا رہا ہے جس سے کورونا کی خطرناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ ملنے جلنے میں سخت احتیاط کی جا رہی ہے حتیٰ کہ ہاتھ ملانے سے پرہیز کیا جا رہا ہے جس سے اس مرض کی سفاکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹ روکنے سے آٹا مہنگا ہو گیا ہے اب کوئی پابندی نہیں ہوگی کھانے پینے کی فیکٹریاں اور انرجی سیکٹر مستقل کام کرتا رہے گا۔ یہ بات عمران خان نے اپوزیشن کے اس پروپیگنڈہ کے جواب میں کہی کہ حکومت نے آٹے کی مہنگائی کرکے غریب عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے یہ سارے جھمیلے کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اپوزیشن جس ایشو کو سر پر اٹھا لیتی ہے حکومت فوری اسے حل کرکے اپوزیشن کا منہ بند کردیتی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سارے معاملات حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور اب حکومت نے اچھی طرح سے حالات کو کنٹرول کرلیا ہے۔

لیکن کورونا کا مسئلہ کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ کئی ملکوں کے سربراہ بھی اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ان میں سے ایک ہیں۔ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرین میں اٹلی بھی شامل ہے ویسے تو اٹلی میں بہت بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے لیکن اٹلی اب تک اس جانی نقصان پر قابو نہیں پاسکا۔ مغربی ملک جو عموماً ان حوالوں سے بہت کیئرفل رہتے ہیں کورونا نے انھیں اس طرح پچھاڑ دیا ہے کہ امریکا جیسے ملک میں کورونا نے مضبوط ڈیرے ڈال دیے ہیں اور امریکا کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،اسے تاریخ کا بدترین حادثہ کہا جاسکتا ہے۔

دنیا میں اس قسم کی بیماریاں ہمیشہ آتی رہتی ہیں انسان نے ترقی کی معراج حاصل کرلی ہے آج کی دنیا سائنسی ٹیکنالوجی کی دنیا ہے ،خاص طور پر شعبہ طب کی ترقی ناقابل یقین ہے اس پس منظر میں کورونا کی لائی ہوئی تاریخی تباہی سے لڑنا کیوں ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بنا دی جائے جو کورونا کی ہسٹری کا مطالعہ کرے اور خاص طور پر یہ دیکھے کہ یہ وبا کیسے حالات میں پھوٹتی ہے۔ کیا اس وبا کے پھیلنے میں موسم کا کوئی دخل ہوتا ہے۔ کورونا کی پوری تاریخ کے مطالعے سے یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ کورونا کی تاریخ کیا ہے اس کی تباہ کاریوں کی وجہ کیا ہے ماضی میں اس بیماری نے کیا انسانوں کو اتنا نقصان پہنچایا جتنا وہ آج پہنچا رہی ہے۔

دنیا کو شدید نقصان پہنچانے والی بیماریوں میں کورونا سرفہرست آ رہی ہے۔ پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے ایسے ملک میں کورونا کی تباہ کاریاں ملک کا بھٹہ بٹھا سکتی ہیں۔ وہ تو پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ چین کی شکل میں اسے ایک ایسا مخلص دوست ملا ہے جو آڑے وقتوں میں پاکستان کو سہارا دینے آجاتا ہے۔ کورونا کے حوالے سے نہ صرف ادویات اور متعلقہ اشیا کی کھیپیں آ رہی ہیں بلکہ ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے آ رہی ہیں چین ایک ایسا دوست ہے جو کم ملکوں کو نصیب ہوتا ہے۔

The post چین کی لازوال دوستی appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2V0gbzI
via IFTTT

خوف کیوں پھیلایا جا رہا ہے

امریکا کی ایک جیل میں سزائے موت کے ایک قیدی پر انوکھا تجربہ کیا گیا۔اسے بتایا گیا کہ اُسے سانپ سے ڈسوا کر مارا جائے گا۔اس قیدی کے حواس پر سانپ چھا گیا۔ایک دن اس کے سامنے سانپ لایا گیا تو وہ سہم گیا۔اس کی آنکھوں پر پٹی  باندھ کر ایک پیپر پِن اس کی ٹانگ میں چبھویا گیا،قیدی کو یقین ہو گیا کہ اسے زہریلے سانپ نے کاٹا ہے،تھوڑی دیر میں اس کی موت واقع ہو گئی حالانکہ اسے سانپ نے چھوا تک نہ تھا۔خوف اس طرح انسان کو مار دیتا ہے۔

ہمارے ہر طرف بھی خوف کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں لیکن اتنا خوف کیوں پھیلایا جا رہا ہے۔کیا پہلے کبھی کوئی وباء نہیں پھیلی۔ کیا موت کی واحد وجہ کورونا وائرس ہے یا پھر کسی خاص مقصد کے حصول کے لیے خوف کی یہ فضا پھیلائی جا رہی ہے۔

اسلامی تاریخ کے بہت ابتدائی زمانے میں اسلامی سلطنت کے کئی حصوں میں وبا پھیلی۔  ابوالحسن المداینی لکھتے ہیں کہ89ہجری میں حجاز پر عبداﷲ ابنِ زبیرؓ کی حکومت تھی۔اُس دوران ایسی وبا پھیلی کہ ایک ایک گھر سے کئی کئی میتیں نکلیں۔اسی وبا نے نہ صرف سیدنا انس بن مالکؓ کی جان لے لی بلکہ ان کے خاندان کے بیسیوں افراد بھی شکار ہو گئے۔ یہ 1665کی بات ہے۔لندن میں پلیگ نے اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے۔لندن میں اس موذی وبا سے آس پاس کی بستیاں بھی متاثر ہونا شروع ہو گئیں۔

خطرے کو بھانپتے ہوئے لندن سے 55میل دور کیمرج یونیورسٹی کو بند کر دیا گیا۔ اِزاک نیوٹن کیمرج میں زیرِ تعلیم تھا۔کیمرج یونیورسٹی کو وبا کے پیشِ نظر اسی طرح بند کر دیا گیا جیسے اب کورونا کی وجہ سے تمام ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔نیوٹن کی عمر اس وقت 22برس کی تھی۔یونیورسٹی بند ہونے سے مستقبل کے سائنس دان کے لیے وہاں رہنا نا ممکن ہو گیا اوپر سے پلیگ کا خوف۔یہی وہ وقت ہے جب اس نے نہ صرف کششِ ثقل کا عالمی قانون دریافت کیا بلکہ رہتی دنیا تک سائنس کی دنیا کا چہرہ بدل کے رکھ دیا۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ وبا کے اس زمانے میں نیوٹن گھر سے اسی طرح کام کر رہا تھا جیسے اب بہت سے لوگ دفاتر گئے بغیر اپنے اپنے گھروں سے کام کر رہے ہیں۔ابھی پچھلی صدی میں 1918 کا سال تھا،اسپینش فلو نے تباہی پھیلا دی۔ایک اندازے کے مطابق کم و بیش 5لاکھ افراد لقمہء اجل بن گئے۔ کورونا وائرس نومبر 2019 میں وبا کی صورت میںپھوٹ پڑا اسی لیے اسے COVIT-19 کا نام دیا گیا۔چار مہینے سے اوپر ہوگئے ہیںاور ابھی تک کل کتنی اموات ہوئی ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسپرین استعمال سے ہر مہینے 250 افراد جان سے جاتے ہیں،سرجری،غلط ادویات اور میڈیکل کے شعبہ سے منسلک افراد کی غلطی سے ہر مہینے 20ہزار لوگ مرتے ہیں ،فلو سے ہر مہینے39ہزار لوگ ، HIV سے ہر مہینے 49ہزار،روڈ ایکسیڈنٹ سے 90ہزار اور دل کے دورے سمیت دل کی بیماریوں سے ہر مہینے دو ملین لوگ موت کی ابدی نیند سو جاتے ہیں۔کورونا وائرس کا خوف یقینی طور پر ذہنی دبائو کو جنم دے گا اور ذہنی دبائو سے روڈ ایکسیڈنٹ بڑھ جائیں گے۔ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی منفی خبریں خوف پھیلا کر کیا رنگ لائیں گی۔

وبائی وائرل امراض کے تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کورونا وائرس لیبارٹری میں انسان کا پیدا کردہ وائرس ہے،یہ قدرتی ہرگز نہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ لیبارٹری میں پیدا کردہ ہے اور جیسا کہ ہے تو اس کے تیار کرنے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں۔ہمیں جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کون سی ایسی اہم ضرورت آپڑی تھی کہ حیاتیاتی سائنس کے ماہرین کو یہ وائرس تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔

کچھ ماہرین جن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے وہ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل یہ بتا رہے تھے کہ کورونا وائرس لو گوں کو مارنے کے لیے بنائی گئی ہے لیکن مارنا اور خوف کے سائے گہرے کرنا صرف ایک مقصد اور سکے کا صرف ایک رُخ ہے۔دوسرا رُخ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین کی عالمگیر ڈیمانڈ پیدا کی جائے۔ ویکسین تیار کر لی گئی ہے اور اسے Patentبھی کر دیا گیا ہے۔

اس ویکسین کا ایک کام تو کورونا وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرنااور بے حد و حساب پیسہ بنانا ہے لیکن اصل مقصد انسانی سیل Cellکے ڈی این اے کے اندر تبدیلی لا کر نئی ہدایات داخل کرنا ہے۔شاید یہ زیادہ ٹیکنیکل ہو کر غیر دلچسپ ہو جائے لیکن ہماری دنیا بالکل تبدیل ہونے جا رہی ہے ۔جمہوریت کے علمبردار ملکوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ یہ ویکسین لگوانے کے لیے لوگوں کو مجبور کریں۔ اس لیے موت اور خوف کے سائے گہرے کر کے اس ویکسین کے لیے شدید ڈیمانڈ پیدا کرنا ہے تاکہ لوگ سمجھیں کہ اگر وائرس سے بچنا ہے تو اس ویکسین کا شاٹ لگوانا اشد ضروری ہے۔

ویکسین کے ذریعے ڈی این اے کو تبدیل کر دیا جائے گا اور ویکسین لینے والے فرد کے اندر  سوچنے ،سمجھنے،تجزیہ کرنے اور آزادانہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی،اس طرح وہ صرف ایک خدمت گار ہو کر رہ جائے گا،وہ کبھی سوال نہیں کرے گا کہ میں ایسا کیوں کروں۔اس کے اندر نہ کرنے کی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔اگر عوام کی اکثریت ضرورت جان کر کروڑوں،اربوں کی تعداد میں ویکسین مانگیں گے اور اپنی مرضی سے لے لیں گے تو بے پناہ دولت  کے ساتھ ایسے عوام تیار ہو جائیں گے جن کو جو کہا جائے گا وہی کریں گے۔

راک فیلر فائونڈیشن کی ایک دستاویز میں کورونا وائرس سے بچائو کے سلسلے میں لاک ڈائون،کرفیو اور دوسرے اقدامات کا چند سال پہلے بالکل اسی طرح ذکر موجود ہے جیسا اب ہو رہا ہے۔دستاویز میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ دنیا کی بڑھتی آبادی تشویش ناک ہے اور کس طرح آبادی کو کم کرنے کے لیے وائرس کو استعمال میں لایا جائے گا۔خوف کے ذریعے ہر چیز بند کر کے چھوٹی اور درمیانے سائز کی صنعتوں اور کاروبار کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے تا کہ گلوبل معیشت صرف اور صرف چند بڑی کمپنیوں کے ہاتھ میں آ جائے یا صرف وہ کاروبار کریں جو ان بڑی کمپنیوں میں ضم mergeہو کر ان کا حصہ بن جائیں۔

ایسا نظر آتا ہے کہ کارپردازوں کا پہلا ہدف امریکی اور یورپین عوام ہیں۔ووہان چین میں کورونا وائرس کاآغاز ہوا۔امریکیوں اور یورپی اقوام کو پتہ تھا کہ یہ کتنی آسانی سے پھیلنے والا مہلک وائرس ہے لیکن وہ سب سے پہلے اپنے لوگوں کو نکال کر واپس لے گئے اور اپنے ممالک میں وائرس پھیلایا۔بظاہر یہ ایک اچھا قدم تھا لیکن اصل میں موت کے سوداگروں کا پھیلایا ہوا جال تھا۔

The post خوف کیوں پھیلایا جا رہا ہے appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dPCYa5
via IFTTT

کورونا سے نمٹنے کا جمہوری عزم

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی، اصلاحات وخصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن 14اپریل تک جاری رہے گا، پورے ملک میں گڈز ٹرانسپورٹیشن بحال رہے گی، جاری بندشوں سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے ساتھ این سی سی اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

اجلاس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان نے کی اور اس میں آرمی چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی، وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے، وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ 14اپریل کو این سی سی کے اجلاس میں فیصلہ کریں گے کہ بندشیں ختم کرنا ہے یا بڑھانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کورونا کی صورتحال میں ادویات کی فراہمی جاری رہے گی، اندرون ملک پروازوں پر تاحال پابندی رہے گی، تاہم انٹرنیشنل پروازیں محدود پیمانے پر شروع کی جا رہی ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے پہلی فلائٹ 4 اپریل کو اسلام آباد آئے گی ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کتنا بڑھتا ہے، ایک ہفتے تک اندازہ ہوگا، عوام سے عطیات دینے کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 25 اپریل تک احتیاط کی تو متاثرین 20 سے25 ہزار، نہ کی تو تعداد50 ہزار سے زیادہ ہوسکتی ہے، اپنے خطاب، انٹرویو اور ٹویٹ میں وزیر اعظم نے جن خدشات وتوقعات کا اظہارکیا ہے، اس پر ملک کے سیاسی، فکری حلقوں اور تجزیاتی ماہرین نے بھی شدید تحفظات کی شکل میں عوام کو درپیش مشکلات کی تفصیل بیان کی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس پاکستان میں ابھی بڑھنا ہے، حکومت تک سارا ڈیٹا پہنچ رہا ہے، اسے پراسیس کیا جا رہا ہے، اس کے بعد آئیڈیا ہوجائے گا کہ کس رفتار سے اس نے آگے بڑھنا ہے، عالمی سطح پرکورونا کی پیش قدمی ہولناک بتائی جاتی ہے، صدر ٹرمپ نے امریکیوں کو آنے والے دنوں کی تباہ کاریوں سے خبردارکیا ہے، صدر ٹرمپ نے ماسک کم پڑجانے کے پیش نظر خواتین کو اسکارف  پہننے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکا میں کورونا کی وجہ سے ہلاکتوں نے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، سعودی عرب نے تمام ممالک کو حج تیاریاں روکنے کا کہہ دیا ہے ۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہمیں بلا تفریق رنگ ونسل اور مذہب ایک قوم بن کرکورونا سے لڑنا ہے، کسی طبقے کو اس وبا کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جائے گا، وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کورونا کو مذہبی رنگ دینے والوں پر سخت نکتہ چینی کی اورکہا کہ کورونا کسی ملک ، مذہب اور مسلک سے تعلق نہیں رکھتا۔

ملک کے معتبر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکمراں کورونا سے نمٹنے میں ملکی معاشی صورتحال کو ترجیحی بنیادوں پر سامنے رکھیں، جہاں تک نمازجمعہ کو محدود رکھنے اور سخت ترین لاک ڈاؤن کے انتباہ کا حکم نامہ ہے اس پر سیاسی، فکری ، سماجی اور دینی حلقوں کا استدلال سواد اعظم کی طرف سے علمائے کرام کی علمی اور قائدانہ پیش قدمی کی تائید میں ہے، ان کا کہنا ہے کہ جمعہ کی نماز سمیت دیگر نمازوں اور رمضان وتراویح کے بارے میں ایک عظیم اتفاق رائے حکومتی اعلامیہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے، اس میں ملکی سماجی اور دینی تقاضوں کے پیش نظر دور دراز مساجد اور تنگ گھروں اور بڑے خاندانوں میں ایک میٹرکا فاصلہ رکھنے سے ریاضیاتی کلیے مشکل پیدا کر رہے ہیں، ملکی فہمیدہ حلقوں کے مطابق کورونا نے ایک اعصابی جنگ اور جبرکی ملی جلی کیفیت میں قوم کو ڈال دیا ہے۔

غربت، بیروزگاری اور ثقافتی اقداروبود وباش کو بھی لاک ڈاؤن کے پیدا شدہ منظرنامہ سے جڑا رہنے دیا جائے، صوبائی حکومتیں صرف لاک ڈاؤن پر زور نہ دیں ، عوام کو فوری ریلیف اور امداد کے وعدے بھی پورے کریں، لوگ سخت مصیبت میں ہیں، گھرگھر فاقے ہورہے ہیں، ملک بھر میں بے نام مخیر حضرات اور سماجی وفلاحی تنظیموں کی طرف سے اکا، دکا ریلیف اورکھانے پینے کی چیزیں متاثرین کو ملنے لگی ہیں مگر وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی طرف سے ریلیف پیکیج کا کوئی اتا پتا نہیں، جن کو ماہانہ 3ہزار6ہزار یا احساس پروگرام کے تحت 12ہزار یکمشت ملنے ہیں وہ مزید کتنا انتظارکریں،اس وقت ریلیف کی فوری فراہمی اشد ضروری ہے۔

سندھ حکومت نے جمعہ کو 3گھنٹے کے لیے کرفیو جیسے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے جو دوپہر 12سے3 بجے تک ہوگا، سندھ حکومت کے ذرایع کے مطابق علما سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ نماز جمعہ اجتماعات محدود ہونگے۔ سندھ حکومت کے مطابق پابندی سے مستثنیٰ کاروبار مذکورہ اوقات میں بند رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وائرس کی مقامی منتقلی کی شرح بڑھ رہی ہے جب کہ کراچی ایکسپو سینٹرمیںقائم کیے گئے فیلڈ اسپتال میں بستروںکی تعداد 1150 بستروں پر مشتمل کراچی میں پہلا کورونا اسپتال قائم کردیا گیا ہے، جس کا افتتاح آج بروز جمعہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کریں گے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ملک میں جاری بندشیں 14اپریل تک جاری رہیں گی، کھانے پینے کی اشیا، ادویات کی دکانیں کھلی رکھنا بہت ضروری ہے، تمام صوبے اس فیصلے پر عملدرآمد کریں گے۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ صوبوں کے وفاق سے موثر روابط کی وجہ سے مدد میں آسانی ہو گی، بیرون ملک سے آنے والے لوگوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ غریب طبقہ کا احساس حکومت کی ذمے داری ہے، وزیراعظم نے تعمیراتی شعبہ کے لیے گائیڈ لائنز دینے کی ہدایت کی ہے۔

ادھرلاہورسمیت پنجاب بھر میں جزوی لاک ڈاؤن مسلسل نویں روز بھی جاری رہا، اشیائے ضروریہ کی دکانوں کے اوقات کار صبح 9سے شام5بجے پر سختی سے عمل درآمد کروایا گیا، بڑے شہروں کی مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی، تاہم ڈبل سواری پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی گئی۔ راولپنڈی میں کاروبار زندگی ، تجارتی ،سماجی ، معاشی، معاشرتی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں ، تمام تجارتی مراکز، پلازے، ٹرانسپورٹ اڈے ، جیولرز، الیکٹرانکس،گارمنٹس،موبائل مارکیٹیں بھی بند رہیں،شہر بھرکے چھوٹے بازاروں میں بھی چھوٹی دکانیں مکمل طور پر مقفل رہیں۔

آزاد کشمیر حکومت نے کورونا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاون میں مزید سختی کا فیصلہ کیا ہے، آزادکشمیرکے انٹری پوائنٹس کو مکمل طور پر بند کیا جائے گا جب کہ آزادکشمیر بھر میں اشیاء خورونوش کی دکانوں کو صبح10 بجے سے شام 4بجے تک کھولا جائے گا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں 9ویں روز بھی لاک ڈاؤن رہا، شہرکے تمام کاروباری مراکز سمیت شاپنگ مالز، ہوٹل، ریستوران بند جب کہ تندور ، سبزی فروٹ کی دکانیں ، میڈیکل اسٹورز اورکریانے کی دکانیں کھلی رہیں۔

کورونا کی ملکی صورتحال بھی منجمد نہیں، ہلاکتوں کا تسلسل جاری ہے، مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق ابھی تک 29 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، متاثرین کی تعداد 2144 ہوگئی ہے۔جن میں82 صحتیاب ہوچکے ہیں، کراچی،راولپنڈی میں دو مریض دم توڑگئے، وبا پرگوجرانوالہ کے 4 علاقے ، ڈسکہ میں 6 گھر قرنطینہ میں تبدیل جب کہ مشتبہ کیسز 17331 ہیں۔ پنجاب 845، سندھ 676 ، کے پی کے253 ، بلوچستان 158 ، جی بی،184 ، اسلام آباد 54  کیسز ہیں، یہ اعدادوشمار کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے جاری کیے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاپان نے کورونا سے نمٹنے کے لیے 20لاکھ ڈالرکی گرانٹ دی ہے۔

ایک دلچسپ بحث کورونا سے لڑنے کے لیے ٹائیگر فورس کے قیام اور ایک لاکھ سے زائد رضاکاروںکی رجسٹریشن سے پیدا ہوئی ہے، مبصرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے حکومت کو رضاکاروں کی جو فورس بنانی ہے اس کا کوئی موزوں نام بھی تجویز نہیں ہوا، مبصرین کے مطابق اس انسانی المیہ اور غربت وبیروزگاری کا مقابلہ سیاسی اور جمہوری  قوتوں کے وسیع تر اشتراک اور تعاون سے ہی ممکن ہے، یہی موقع ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں  ٹائیگروں کے بجائے ایک سیاسی لشکر تیار ہوتا جو ملک گیر پیمانے پر ریلیف مہیا کرنے، امداد اور خوراک گھر کی دہلیزوں تک پہنچنے کی مثال قائم کرتا اور اس میں کل جماعتی اشتراک ،ہم آہنگی، خیرسگالی اورکشادہ دلی کو جگہ دی جاتی، سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کرکورونا کو شکست دی جانی چاہیے تھی۔

یہ وزیراعظم کی جانب سے خندہ پیشانی سے سیاسی جماعتوں کو زیتون کی شاخ پیش کرنے کا سنہری موقع ہوگا، اس کے ملکی سیاست اورکورونا سے نمٹنے کی جدوجہد کے مثبت اور صحت مند نتائج سامنے آسکتے ہیں، دنیا کو ایک تعمیری اور خوشگوار سیاسی پیغام جاسکتا ہے اگر اب بھی حکومت اور اپوزیشن میں دراڑیں موجود رہیں تو اس مشق کا انجام پہلی جیسی رضاکار ٹیموں، امداد و ریلیف کی بے نتیجہ کوشش جیسا ہوگا۔

امید ہے حکومت آزمائش کی اس گھڑی میں صلح کل اور جمہوری اسپرٹ کا بھرپور مظاہرہ کرے گی، اپوزیشن کو ساتھ ملانے سے کورونا کے خلاف جنگ قومی امنگوں کی عکاسی اور ترجمانی کا بیش بہا مظہر بن سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بحران اور آزمائشوں میں قیادت کے جھنڈے گاڑ دیتی ہیں ، قومیں سرخرو ہوتی ہے۔کورونا کوکون سا عمر بھر اہل وطن کے اعصاب پر سوار رہنا ہے۔

The post کورونا سے نمٹنے کا جمہوری عزم appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2Jx0aMF
via IFTTT

سی آئی اے کی درخواست پر ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزمان 90 روز کے لیے نظر بند

 کراچی: سندھ حکومت نے سی آئی اے کی درخواست پر ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزمان کو 90 روز کے لیے نظر بند کردیا۔

یہ پڑھیں : ڈِینیل پرل قتل کیس؛ احمد عمر شیخ کی سزائے موت 7 سال قید میں تبدیل

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ حکومت کو ڈی آئی جی سی آئی اے نے ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈینئل پرل قتل کیس میں نامزد ملزم اور بری ہونے والوں کی رہائی سے نقص امن کا خدشہ ہے، احمد عمر شیخ، فہد نسیم کی رہائی ملک کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے اس لیے انہیں نظر بند کردیا جائے۔

محکمہ داخلہ سندھ نے ڈینیل پرل قتل کیس سے متعلق سی آئی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے  مقدمے سے بری ہونے والے 4 افراد کو دوبارہ تحویل میں لے کر نظر بند کرنے کا حکم جاری کردیا۔ ملزمان میں احمد عمر شیخ، فہد نسیم، سید سلمان ثاقب اور  شیخ محمد عادل شامل ہیں جنہیں 3 ماہ کے لیے نظر بند کیا گیا ہے۔

 

The post سی آئی اے کی درخواست پر ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزمان 90 روز کے لیے نظر بند appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3aPK6RS
via IFTTT

کراچی میں راشن کی تقسیم کا وقت اور طریقہ کار جاری

 کراچی: سندھ حکومت کے احکامات پر کمشنر کراچی نے راشن کی تقسیم کا طریقہ کار جاری کردیا، راشن کی تقسیم صبح 5 تا صبح 7 بجے کے درمیان ہوگی جس میں آٹا، دالیں، تیل، چاول اور مسالہ جات شامل ہوں گے۔

کمشنر کراچی کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق سندھ حکومت کی ہدایت پر راشن کی تقسیم رات کے آخری پہر میں کی جاسکتی ہے، اس لیے مستحق افراد میں راشن کے لیے صبح 5 بجے سے صبح 7 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

راشن کی تقسیم کے دوران ہجوم لگنے پر پابندی ہوگی، تقسیم صرف گھر پر ہی کی جاسکے گی، مستحق افراد میں ڈپٹی کمشنرز کی زیر نگرانی راشن دیا جائے گا، راشن بیگ میں 3 اقسام کی ایک ایک کلو دالیں، 2 کلو تیل، 10 کلو آٹا، 5 کلو چاول، ایک کلو سفید چنا، نمک اور 250 گرام لال مرچ، نمک، ہلدی اور پسا ہوا دھنیا شامل ہوگا۔

The post کراچی میں راشن کی تقسیم کا وقت اور طریقہ کار جاری appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2w814Mm
via IFTTT

عوام جمعہ کو مساجد نہ آئیں نماز گھر پر ہی ادا کریں، علما کی اپیل

 لاہور: پاکستان علماء کونسل اور ملک بھر کے علماء و مشائخ نے اپیل کی ہے کہ جمعۃ المبارک کے حوالے سے علماء اور مقامی انتظامیہ کا جو ضابطہ طے ہوا، اس پر مکمل طور پر عمل کیا جائے، جہاں عوام الناس کو جمعہ کی نماز کے لیے مساجد میں آنے سے منع کیا گیا وہاں لوگ گھر پر نماز ظہر ادا کریں۔

یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر اشرفی، علامہ عبدالحق مجاہد، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا نعمان حاشر، قاضی مطیع اللہ سعیدی، علامہ عبدالکریم ندیم، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا ابوبکر صابری، مولانا اسد زکریا قاسمی، مولانا محمد نواس، علامہ طاہرالحسن، قاری عصمت اللہ معاویہ، مولانا سید الرحمٰن سعید، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا حسین احمد درخواستی، مولانا زبیر عابد، مولانا یاسر علوی و دیگر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہی۔

علما و مشائخ نے کہا ہے کہ کوئی کسی مسلمان کو مسجد میں نماز کے لیے منع نہیں کرسکتا لیکن عالمی وباء کے حوالے سے جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں ان کے پیش نظر کراچی کے علماء اور حکومت میں جو معاہدہ طے پایا اس کی پاس داری کی جائے، کسی بھی جگہ تصادم کی صورتحال پیدا نہ کی جائے، انتظامیہ بھی تشدد سے گریز کرے اور علماء، خطبہ، آئمہ اور عوام الناس بھی ٹکراؤ کہ صورتحال پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں۔

علماء و مشائخ نے کہا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں کورونا وائرس کے شکار لوگوں میں اضافہ ہورہا ہے اور صورتحال گمبھیر سے گمبھیر تر ہو رہی ہے، ایسے حالات میں حکومت ، مقامی انتظامیہ ، علماء ، خطباء ، آئمہ اور عوام الناس ایک دوسرے سے تعاون کریں اور کسی بھی جگہ ایسی فضا پیدا نہ کی جائے جو کسی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں ہمارے سامنے ہو۔

انہوں نے کہا کہ جمعۃ المبارک کے موقع پر محدود اجتماعات کے حوالے سے حکومت اور انتظامیہ سے تعاون کریں، کراچی کے علماء نے مفتی تقی عثمانی کی سربراہی میں حکومت کو اس حوالے سے اختیار دے رکھا ہے اسے ملحوظ خاطر رکھا جائے، کسی قسم کا ٹکراؤ مزید نقصان کا باعث بنے گا اس لیے جہاں جہاں مقامی انتظامیہ اور علماء کے درمیان جو معاہدہ ہوا اسے تسلیم کیا جائے اور جہاں کہیں ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا وہاں انتظامیہ بھی علماء کے ساتھ بیٹھ کرمعاملات طے کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کا مقصد محض کورونا وباء سے انسانی زندگیوں کو بچانا ہے، اس لیے تمام فریقین کو دانش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، علماء و مشائخ نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، گھروں میں رہ کر ہی ذکر و اذکار اور استغفار کریں، حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کیا جائے، بیمار، ضعیف اور کورونا وائرس کے مشتبہ افراد باقی نمازیں بھی گھرمیں ہی ادا کریں۔

The post عوام جمعہ کو مساجد نہ آئیں نماز گھر پر ہی ادا کریں، علما کی اپیل appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3dL6lui
via IFTTT